خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 476
خطبات مسرور جلد 11 476 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2013ء کمزور ہے۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بار بار مہمان نوازی کی طرف توجہ دلائی تو اپنے آقاو مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی وجہ سے، قرآنِ کریم کے حکم کی وجہ سے، اس لئے کہ ہم اپنے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کریں۔پھر ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے پیش آنے کو بھی بڑی نیکی فرمایا ہے۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلة والآداب باب استحباب طلاقة الوجه عند اللقاء حدیث نمبر (6690) پس جلسے کے یہ تین دن جو ہیں ان میں متفرق نیکیاں بجالائی جاتی ہیں۔ان کے علاوہ یہ بھی بہت بڑی نیکی ہے کہ دوسروں سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں۔اس کے مختلف مواقع پیدا ہوتے رہتے ہیں۔میز بانوں کو بھی پیدا ہوں گے اور مہمانوں کے لئے بھی پیدا ہوں گے۔خاص طور پر ڈیوٹی دینے والے کارکنوں کو میں کہوں گا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے تعلقات میں بھی ، بات چیت میں بھی ، تھکاوٹ کی وجہ سے بعض دفعہ آدمی چڑ بھی جاتا ہے تب بھی خندہ پیشانی سے پیش آئیں۔اور افسران جو ہیں اپنے ماتحتوں سے بھی خندہ پیشانی سے پیش آئیں۔کارکنوں کے لئے بعض دفعہ ایسے موقعے پہلے پیدا ہوتے رہے ہیں کہ بعض جگہیں مخصوص ہیں یا بعض کھانے پینے کی چیزیں مخصوص کر دی گئیں یا جہاں دفتر بنائے گئے تو فریج رکھ دیئے گئے جو صرف افسران کے لئے مخصوص کر دیئے گئے اور عام معاون اگر وہاں سے پانی بھی پی لیتا تھا تو اس سے ناراضگی ہو جاتی تھی، یہ چیزیں ہمارے اندر نہیں ہونی چاہئیں۔بہر حال ڈیوٹی کے دوران جس طرح میں نے کہا، کئی باتیں ہو جاتی ہیں، کام کرتے ہوئے اونچ نیچ ہو جاتی ہے۔لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہم نے خوش اخلاقی کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا ہے۔مہمانوں سے تو خوش اخلاقی سے پیش آئیں گے ہی ، اگر آپس میں بھی خوش خلقی کا مظاہرہ کریں، تو مہمانوں پر بھی اس پورے ماحول پر بہت اچھا اثر ہوگا اور ماحول مزید خوشگوار ہوگا۔جو غیر مہمان آئے ہوتے ہیں اُن پر بھی بڑا اچھا نیک اثر ہوگا اور پھر اسی طرح خود بھی اپنی نیکیوں میں اضافہ کر رہے ہوں گے۔خوش خلقی کا مظاہرہ کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن رہے ہوں گے۔پھر یہ بات بھی ہر ڈیوٹی دینے والے کو ، ہر کارکن کو یاد رکھنی چاہئے کہ مہمان نوازی کوئی احسان نہیں ہے بلکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے، جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ مہمان کا حق ہے اور اللہ تعالیٰ حقوق کی ادائیگی کے