خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 475
خطبات مسرور جلد 11 475 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2013ء انتظامات میں بھی آگئے ہیں۔مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ یہ معیار اس سال بہتر ہو گا۔لیکن یاد رکھیں کہ صرف شخصیات بدلنے سے، چہرے بدلنے سے بہتری نہیں آیا کرتی بلکہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہمارے شاملِ حال رہے اور ہم وہ کام کریں، اُس طرح احسن رنگ میں خدمت کرنے والے ہوں جس طرح خدا تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے اُس کی تو فیق مانگیں۔اور یہ بھی دعا کریں کہ کوئی ایسا موقع پیدا نہ ہو جس میں غلط انہی پیدا ہو۔مہمان نوازی کے ضمن میں اس بات کی بھی میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ انگلستان کے رہنے والے احمدی اور خاص طور پر لندن میں رہنے والے احمدی یہ خیال رکھیں کہ باہر سے، یعنی بیرون از یو کے (UK) سے آنے والے مہمان اُن کے بھی مہمان ہیں۔باہر سے آنے والے مہمانوں کی تعداد اب کم و بیش تین ہزار ہوتی ہے۔اگر ویزے مل جائیں تو شاید اس سے بھی زیادہ ہو جائے۔اس لئے یہاں کے احمدیوں میں سے کسی کی کسی کام پر ڈیوٹی ہے یا نہیں ہے اُن کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ باہر سے آنے والا ہر مہمان اُن کا مہمان ہے۔کیونکہ یوکے(UK) میں رہنے والے مہمان بھی جلسے پر آئیں گے تو مہمان ہوں گے، جن کی ڈیوٹی نہیں ہے۔یہاں کے رہنے والے مہمان جب کسی باہر سے آنے والے مہمان سے رابطے میں ہوں تو سمجھیں کہ یو کے (UK) میں رہنے والا ہر احمدی میزبان ہے اور باہر سے آنے والا مہمان ہے۔یا یہ سمجھ لیں کہ اگر بعض خاص حالات میں برطانیہ سے آئے ہوئے مہمانوں اور بیرون از برطانیہ آئے ہوئے مہمانوں کے لئے کسی ترجیح کا سوال پیدا ہو تو بیرون از برطانیہ مہمانوں کو پہلی ترجیح ملنی چاہئے اور یہاں کے رہنے والوں کو بہر حال اُن کے لئے قربانی دینی چاہئے۔پس یہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ بعض حالات میں مہمان ہوتے ہوئے بھی میزبان ہیں۔یہ صرف ڈیوٹی والوں کا ہی کام نہیں ہے بلکہ اس سوچ کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے اور اس کو وسیع کرتے ہوئے پھر آپ اپنے آپ کو قربانیاں دینے والا بنا ئیں اور جب یہ کچھ ہو گا تو پھر ایک خوبصورت معاشرہ ہمیں نظر آئے گا۔جب ہم بعض احادیث کو دیکھتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ مہمان بنے کی بجائے میزبان ہی بنے رہیں۔مہمان نوازی بھی ایک حدیث کے مطابق مومن ہونے کی نشانی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے، وہ مہمان کی عزت واحترام کرے۔(صحیح البخاری کتاب الادب باب اکرام الضیف و خدمته ایاه بنفسه حدیث نمبر 6135) گو یا دوسرے لفظوں میں مہمان کی عزت و احترام نہ کرنے والا اللہ اور یوم آخرت پر ایمان میں