خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 472
خطبات مسرور جلد 11 472 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 اگست 2013ء خاطر وقت دینا ہے احمدی کا خاص نشان بن چکی ہے۔ہر معاملے میں احمدی اپنی قربانیاں پیش کرتے ہیں۔انجنیئر زایسوسی ایشن ہے تو وہ اپنے کام کر رہی ہے۔ڈاکٹر ز کی ایسوسی ایشن ہے تو وہ اپنے کام کر رہی ہے۔دوسرے متفرق شعبے ہیں تو اُن کے لوگ اپنے وقت دیتے ہیں۔علاوہ جلسوں کے کاموں کے سارا سال یہ کام چل رہے ہوتے ہیں۔جماعت احمدیہ کا ایک خاصہ ہے کہ یہاں والنٹیئر کام بہت زیادہ ہوتا ہے۔سالہا سال کی تربیت کی وجہ سے جلسے کے مہمانوں کی خدمت تو احمدی دنیا میں خاص طور پر ایک احمدی کا طرہ امتیاز ہے۔بچے، جوان، بوڑھے، مرد، عورتیں سب جلسے کے دنوں میں خدمت کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔اور اپنے ذمہ جو بھی اُن کے مفوضہ فرائض ہیں اُن کی بجا آوری میں بڑے سرگرمی سے کوشاں ہوتے ہیں اور ہونا چاہئے۔کیونکہ جلسے کے مہمان تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہیں۔گویا یہ مہمان نوازی اعلیٰ خلق بھی ہے اور دین بھی ہے۔یہاں یہ بھی بتادوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مہمان نوازی کا معیار کیا تھا؟ تاکہ ہمارے معیار مزید اونچے اور بہتر ہوں۔ایک دن آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ، آپ آرام فرمارہے تھے، ایک مہمان آ گئے۔آپ کو پیغام بھیجا گیا تو آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا ” میں نے سوچا کہ مہمان کا حق ہوتا ہے جو تکلیف اٹھا کر آیا ہے۔اس واسطے میں اس حق کو ادا کرنے کے لئے باہر آ گیا ہوں۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 163 مطبوعہ ربوہ) پس آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کے لئے ہمیں یہی معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جس مہمان نوازی کا آج ہمیں موقع دیا جارہا ہے وہ نہ صرف مہمان ہیں بلکہ ایک دینی مقصد کے لئے سفر کر کے آنے والے مہمان ہیں۔اس لئے آرہے ہیں کہ جلسے کے تین دنوں میں اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کی باتیں سنیں گے۔اس لئے آ رہے ہیں کہ اپنی روحانی اور دینی تربیت کے سامان کریں گے۔اس لئے آرہے ہیں کہ آپس میں پیار اور بھائی چارے اور محبت کی فضا کو قائم کریں گے۔بہت سے مہمان ایسے بھی ہیں جو بڑی تکلیف اُٹھا کر آتے ہیں۔بعض بڑے اچھے حالات میں اپنے گھروں میں رہنے والے یہاں آتے ہیں تو یہاں دنیاوی آسائش کے لحاظ سے ان دنوں میں تقریباً تنگی میں گزارہ کرتے ہیں لیکن پھر بھی آتے ہیں۔بعض غریب مہمان ہیں وہ اپنے پر بوجھ ڈال کر دور دراز ملکوں سے صرف جلسے کی برکات حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آتے ہیں۔خلیفہ وقت سے ملنے اور اُس کی باتیں سننے کے شوق میں آتے ہیں۔اب بیشک ایم ٹی اے نے دنیائے احمدیت کو بہت قریب کر دیا ہے لیکن