خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 473
خطبات مسرور جلد 11 473 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2013ء پھر بھی جلسے کے ماحول کا اپنا ایک علیحدہ اور الگ اثر ہے۔پس ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ آج کل کونسی تکلیف ہے جو یہ مہمان اٹھا ر ہے ہیں۔بعض بڑی عمر کے ہیں جو مختلف عوارض کے باوجود تکلیف اُٹھاتے ہیں اور سفر کرتے ہیں۔بعض جیسا کہ میں نے کہا ، اپنے گھر کی آسائشوں کو چھوڑ کر دین کی خاطر سفر کرتے ہیں، مارکی میں سوتے ہیں اور سادہ کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔پس ایسے مہمانوں کا ہم پر بہت حق ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اکثریت ایسے مہمانوں کی ہوتی ہے جوصرف اور صرف جلسے کی غرض سے آتے ہیں اور اب تو سفر کے اخراجات بھی بہت بڑھ گئے ہیں لیکن خرچ کرتے ہیں اور پرواہ نہیں کرتے۔پس ان مہمانوں کا یہ احترام کرنا ہم پر فرض ہے۔یہ بہت ہی قابلِ احترام مہمان ہیں جن کی نیت اللہ اور رسول کی رضا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اور موقع پر مہمانوں کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں۔ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں۔اس لئے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الا کرام جان کر تواضع کرد۔فرمایا ” تم پر میر احسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو۔ان سب کی خوب خدمت کرو۔“ 66 ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 492 مطبوعہ ربوہ ) پس جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہیں اور دینی غرض سے آئے ہیں، جن کی نیت اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے تو ان کے لئے پھر ہمیں ایک توجہ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حسن ظن کا پاس کرنے اور خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔اور ہر مہمان کے لئے خدمت کا جذبہ ہمارے دل میں ہونا چاہئے۔اور دل میں ہمیشہ یہ خیال رہنا چاہئے کہ مہمان کا حق ہوتا ہے۔جہاں جہاں ہماری ڈیوٹیاں ہیں ہم نے اس حق کے ادا کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ہر کارکن اور ہر ڈیوٹی دینے والے کے دل میں یہ ہونا چاہئے تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حسنِ ظن پر پورا اتریں۔ہم یہ کہنے کے قابل ہوں کہ اے خدا کے مسیح! اور اے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق ! تیری ہر نصیحت پر ہم آج بھی عمل کرنے والے ہیں۔اور ایک احمدی سے یہی توقع کی جاتی ہے۔ایک صدی سے زائد کے سفر نے ہمیں آپ کے حسنِ ظن سے غافل نہیں کر دیا۔آج بھی ہمارے بچے، جوان، بوڑھے، مرد اور عورتیں اپنے فرائض کو نبھانے کے لئے حتی الوسع کوشش کر رہے ہیں اور انشاء اللہ تعالی کرتے رہیں گے۔آپ کے اس خیال اور اس درد کو ہمیشہ سامنے رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کوشش کرتے