خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 469 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 469

خطبات مسرور جلد 11 469 34 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اگست 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 23 اگست 2013ء بمطابق 23 ظہور 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگلے جمعہ سے انشاء اللہ جلسہ سالانہ یوکے(UK) شروع ہو رہا ہے۔جلسہ شروع ہونے سے بہت پہلے جلسے کا کام شروع ہو جاتا ہے۔یوکے(UK) کا جلسہ سالانہ ایسا جلسہ ہے جہاں جلسے کے عارضی انتظامات کر کے چند دنوں کے لئے ایک عارضی شہر ہی بنا دیا جاتا ہے۔پاکستان میں جلسے ہوتے تھے تو وہاں بھی لنگر خانوں کا ایک مستقل انتظام تھا، کئی لنگر تھے۔اسی طرح رہائشگاہیں بھی کافی حد تک مستقل ہوگئی تھیں۔اس سے پہلے جب سکول اور کالج جماعت کے تھے تو وہ رہائشگاہ ہوتی تھی۔لیکن جب حکومت نے لے لئے تو پھر دوسری رہائشگاہیں بن گئیں۔گو بہت زیادہ تعداد ہونے کی وجہ سے عارضی رہائشگاہیں خیمے لگا کر بھی بنائی جاتی تھیں۔اس کے علاوہ ربوہ کے مکین مہمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو اپنے گھروں میں سمو لیتے تھے۔وہ جس جس جگہ پر ہوتے تھے اُن کا کھانا وغیر ہانگر خانوں سے آتا تھا۔بہر حال ربوہ کے جلسے کے بعض مستقل انتظامات بھی تھے اور ایک لمبے تجربے سے، علاوہ مستقل انتظامی ڈھانچے کے، ربوہ کے مکین بھی انتظامات کے ماہر ہو چکے تھے۔اللہ کرے کہ اُن کی یہ رونقیں اور یہ تربیتی ماحول اور یہ خدمت کے جذبے اُن کی زندگی کا دوبارہ حصہ بن جائیں۔اسی طرح اب قادیان میں بھی بہت سے مستقل انتظامات ہو چکے ہیں۔عارضی طور پر اب زیادہ جلسہ گاہ کے انتظامات ہی ہیں، جلسہ گاہ ہی ہے جو زیادہ انتظامات چاہتی ہے۔بیشک لنگر خانوں کے لئے غیر احمدیوں میں سے زائد لیبر یا غیر مسلموں میں سے لیبر لانی پڑتی ہے۔کھانے پکوائی کے لئے ، روٹی پکوانے کے لئے پکانے والے لانے پڑتے ہیں۔لیکن لنگروں کا مستقل وہاں بھی انتظام ہے۔