خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 467
خطبات مسرور جلد 11 467 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2013ء پیدا ہو تو بعض ملکوں سے ہمیں یہ شکایت ہے کہ اُن کو بڑا انقباض ہوتا ہے۔ایسے تبادلوں کو بخوشی تسلیم کرنا چاہئے۔اللہ کے فضل سے یہاں یو کے (UK) کے مبلغین میں یہ بات ابھی تک میرے علم میں نہیں آئی۔یہ بھی اہم بات یاد رکھیں کہ اگر کسی عہدیدار یا اگر امیر کو بھی کسی بات کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہو مثلاً اگر کوئی ایسا معاملہ ہے جو جماعتی روایت کے خلاف ہے یا جس میں کوئی شرعی روک ہے تو ادب کے دائرے میں اور نرمی کے ساتھ تو جہ دلائیں۔اگر بات نہ مانی جائے اور جماعتی نقصان ہو رہا ہو یا شرعی حکم ٹوٹ رہا ہو تو پھر مجھے اطلاع کر دیں۔کسی قسم کی آپس میں بحث اور ایک ضد بازی نہیں شروع ہو جانی چاہئے۔کیونکہ یہ پھر نظام جماعت میں تفرقہ ڈالنے کا موجب بنتی ہے۔بیشک میں نے ایک دفعہ کہا تھا که مربیان دینی مسائل میں امراء کو توجہ دلا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے اس قاعدے کی بھی پابندی کرنی ضروری ہے یا ایسے اخلاق کی بھی پابندی کرنی ضروری ہے کہ احسن طریق پر اور بغیر کسی ایسے ماحول کو پیدا کئے جس سے جماعتی نظام متاثر ہو رہا ہو، یہ نصیحت کی جائے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقیقی احمدی بننے اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ابھی نماز جمعہ کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو عزیزہ تانیہ خان کا ہے جو آصف خان صاحب سیکرٹری امور خارجہ کینیڈا کی اہلیہ تھیں۔6 اگست 2013ء کو 38 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یہ لبنانی نژاد کینیڈین خاتون تھیں۔1998ء میں انہوں نے احمدیت قبول کی۔بڑی فعال داعی الی اللہ تھیں تبلیغ کا بڑا شوق تھا۔نیشنل سیکرٹری تبلیغ لجنہ اماءاللہ کینیڈا کے علاوہ مختلف حیثیتوں سے لوکل اور نیشنل لیول پر جماعتی خدمت کی ان کو توفیق ملی۔ایم ٹی اے کینیڈا کی مستقل ممبر تھیں۔میڈ یا پر بھی اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچانے کے لئے ہمیشہ مستعد رہتی تھیں۔اس مقصد کے لئے آپ نے کینیڈا کے طول و عرض کے علاوہ امریکہ کا سفر بھی اختیار کیا۔اپنا مؤقف ہر فورم پر بڑی خوبصورتی اور نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا کرتی تھیں۔پیشے کے لحاظ سے ایک ٹیچر تھیں اور ابھی حال ہی میں اُن کی تقرری وائس پرنسپل کے طور پر بھی ہوئی تھی۔طلباء میں انسانی قدر میں پیدا کرنے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتی تھیں۔ٹیچر کی حیثیت سے کئی ایوارڈ حاصل کئے۔خلافت کے ساتھ ان کا بڑا محبت اور وفا کا تعلق تھا۔ہر تحریک پر لبیک کہنے والی تھیں۔پردہ کی پابند اور خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار۔اپنے اعضاء بھی انہوں نے وفات کے بعد donate کرنے کی وصیت کی ہوئی تھی۔غریبوں کی بڑی ہمدرد، بیوی بھی مثالی ماں بھی مثالی ، ہر رشتہ کو خوبصورتی سے