خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 465
خطبات مسرور جلد 11 465 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2013ء ہدایت دی گئی ہے اور اگر کوئی تربیت کا پہلو ہے تو فوراً اُسے نوٹ کریں اور صدرانِ جماعت کو سرکلر کریں۔اور پھر باقاعدگی سے اس کی نگرانی ہو کہ کس حد تک اُس پر عمل ہو رہا ہے۔ہو سکتا ہے کہ بعض اور جماعتیں بھی یہ کرتی ہوں لیکن رپورٹ کا جہاں تک تعلق ہے ابھی تک صرف امریکہ کی جماعت کے امیر ہیں جو با قاعدگی سے یہ نوٹ کرتے ہیں اور پھر سر کلر بھی کرتے ہیں اور کوئی بھی بات جب دیکھیں کہ خطبہ میں کی گئی ہے، کوئی ہدایت دی گئی ہے تو آگے پہنچاتے ہیں۔اور باقیوں کو بھی چاہئے کہ اس پر عمل کریں۔یوکے(UK) تو ایک چھوٹاسا ملک ہے۔اگر اس بارے میں یہاں صحیح رنگ میں کام کیا جائے تو سب جماعتوں سے بڑھ کر یہاں بہترین نتائج نکل سکتے ہیں۔اس کے علاوہ مرکز سے یا میری طرف سے مختلف ہدایات جو جاتی ہیں وہ بھی آپ کا کام ہے کہ فوری طور پر جماعتوں کو پہنچائی جائیں اور پھر اُس کا follow up بھی کیا جائے، feed back بھی لی جائے۔اسی طرح نیشنل امیر جماعت ریجنل امیر بنا کر صرف اس بات پر نہ بیٹھ جائیں کہ ریجنل امیر کام کر رہے ہیں اور تمام کام کا انحصار انہی پر ہو، یہ نہیں ہونا چاہئے، صحیح طریق نہیں ہے۔اس سے جو بات آب تک میری نظر میں آئی ہے یہ ہے کہ ملکی مرکز اور جماعتوں میں دُوری پیدا ہورہی ہے، بلکہ یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ ہم مرکز تک یعنی ملکی مرکز تک براہ راست نہیں پہنچ سکتے۔یہ احساس بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔اس لئے یہاں بھی اور دوسری جگہ بھی امیر جماعت اس بات کی پابندی کریں کہ سال میں کم از کم دو مرتبہ صدر ان کے ساتھ میٹنگ ہو اور کام اور ترقی کی رفتار کا جائزہ لیا جائے اور جوصدران با وجود توجہ دلانے کے کام نہیں کرتے اُن کی رپورٹ مجھے بھجوائیں۔اسی طرح سیکرٹریان مال ، سیکرٹریان تربیت ،سیکرٹریان تبلیغ بھی ہیں۔اگر دو نہیں تو سال میں کم از کم ایک میٹنگ ان کے ساتھ ضروری ہونی چاہئے اور ان کے کاموں کا جائزہ لیں۔اگر یہ سیکرٹریان فعال ہو جا ئیں تو باقی شعبوں کے سیکرٹریان ہیں، یا باقی شعبوں کے جو بہت سارے مسائل ہیں وہ بھی خود بخو دھل ہو جا ئیں گے۔پس آج سے نیشنل امیر اپنے پروگرام بنائیں کہ ہر جماعت تک انہوں نے کس طرح پہنچ کر جماعتی نظام کو فعال کرنا ہے۔یوکے(UK) اور چھوٹے ممالک جو ہیں اُن میں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔مرکز میں اور کسی بھی ریجن میں میٹنگ کے لئے جمع کیا جا سکتا ہے۔جو بڑے ممالک ہیں، امریکہ کینیڈا وغیرہ ہے، وہ اس سلسلہ میں اپنا کوئی ایسا لائحہ عمل بنائیں کہ کس طرح وہ ذاتی رابطہ ہر سطح کی جماعت کو فعال