خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 461 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 461

خطبات مسرور جلد 11 461 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2013ء احساس بھی ہوتا ہے اور توبہ و استغفار بھی کرتے ہیں اور آئندہ سے جماعت سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔پس یہ یاد دہانی کروانا اور نگرانی بھی رکھنا یہ جو جماعتی نظام ہے، سیکرٹریان، مبلغین اور ذیلی تنظیمیں ہیں، ان سب کا کام ہے کہ خلافت سے ہر فرد کا ذاتی تعلق پیدا کروانے کی کوشش کریں۔دلوں میں خلافت سے تعلق اور وفا کو جو پہلے ہی ہے اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔جب اُن کو سمجھایا جائے تو یہ لوگ مزید نکھر کے سامنے آتے ہیں۔اگر کوئی گرد پڑ بھی گئی ہو تو وہ جھڑ جاتی ہے۔کیونکہ جب کوئی تعزیر کی جاتی ہے تو اُس وقت اس وفا کا شدت سے اظہار ہوتا ہے۔اگر تربیت کا شعبہ مستقل خلیفہ وقت سے رابطے کی تلقین کرتا رہے اور خطبات اور جلسوں اور سارے پروگراموں کو دیکھنے کی طرف توجہ دلاتے رہیں تو جہاں خلافت سے مزید تعلق مضبوط ہوگا، وہاں تربیت کے بھی بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔پھر اگلی بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ افراد جماعت پر چندوں کی اہمیت واضح کرنا ہے۔یادرکھیں اور یہ بات عموماً میں سیکرٹریان مال سے کہا بھی کرتا ہوں کہ لوگوں کو یہ بتا یا کریں کہ چندہ کوئی ٹیکس نہیں ہے بلکہ ان فرائض میں داخل ہے جن کی ادائیگی کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں متعدد جگہ حکم فرمایا ہے۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَاطِيْعُوا وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لَّا نُفُسِكُمْ وَمَنْ يُوقَ شُحَ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ إِنْ تُقْرِضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضْعِفُهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ، وَاللهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ (التغابن: 17-18) پس اللہ کا تقوی اختیار کر جس حد تک تمہیں توفیق ہے اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔اور جو نفس کی کنجوسی سے بچائے جائیں تو یہی ہیں وہ لوگ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔اگر تم اللہ کو قرضہ حسنہ دو گے تو وہ اسے تمہارے لئے بڑھا دے گا۔اِنْ تُقْرِضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضْعِفُهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وہ اُسے تمہارے لئے بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بہت قدر شناس اور بردبار ہے۔پس ان آیات سے واضح ہے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنا ایک مومن کے لئے انتہائی ضروری ہے۔وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں جو خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور فرمایا کہ تمہارا خدا کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کو قرض دیا ہے اور اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جو بندے کو اُس کی