خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 458 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 458

خطبات مسرور جلد 11 458 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2013ء ہمیں آپ کو ماننے کی کیا ضرورت ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ: دیکھو جس طرح جو شخص اللہ اور اُس کے رسول اور کتاب کو ماننے کا دعوی کر کے اُن کے احکام کی تفصیلات مثلاً نماز ، روزہ، حج ، زکوۃ، تقویٰ طہارت کو بجانہ لا وے اور اُن احکام کو جو تزکیۂ نفس، ترک شر اور حصول خیر کے متعلق نافذ ہوئے ہیں چھوڑ دے وہ مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ہے“۔مسلمان ہونے کا دعوی کرے لیکن یہ ساری نیکیاں نہ بجالائے ، برائیوں کو نہ چھوڑے، نیکیوں کو اختیار نہ کرے تو فرمایا کہ وہ مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔" اور اُس پر ایمان کے زیور سے آراستہ ہونے کا اطلاق صادق نہیں آ سکتا۔اسی طرح سے جو شخص مسیح موعود کو نہیں مانتا یا ماننے کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ بھی حقیقت اسلام اور غایت نبوت اور غرضِ رسالت سے بے خبر محض ہے۔یعنی کہ اُس کو پتہ ہی نہیں کہ نبوت کی کیا ضرورت ہے؟ کیا اغراض ہیں؟ ” اور وہ اس بات کا حقدار نہیں ہے کہ اُس کو سچا مسلمان ، خدا اور اُس کے رسول کا سچا تابعدار اور فرمانبردار کہ سکیں کیونکہ جس طرح سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قرآن شریف میں احکام دیئے ہیں اسی طرح سے آخری زمانہ میں ایک آخری خلیفہ کے آنے کی پیشگوئی بھی بڑے زور سے بیان فرمائی ہے اور اُس کے نہ ماننے والے اور اُس سے انحراف کرنے والوں کا نام فاسق رکھا ہے۔قرآن اور حدیث کے الفاظ میں فرق ( جو کہ فرق نہیں بلکہ بالفاظ دیگر قرآن شریف کے الفاظ کی تفسیر ہے ) صرف یہ ہے کہ قرآن شریف میں خلیفہ کا لفظ بولا گیا ہے اور حدیث میں اسی خلیفہ آخری کو مسیح موعود کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔پس قرآن شریف نے جس شخص کے مبعوث کرنے کے متعلق وعدے کا لفظ بولا ہے اور اس طرح سے اس شخص کی بعثت کو ایک رنگ کی عظمت عطا کی ہے وہ مسلمان کیسا ہے جو کہتا ہے کہ ہمیں اُس کے ماننے کی ضرورت ہی کیا ہے؟“ فرمایا کہ: ” خلفاء کے آنے کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک لمبا کیا ہے اور اسلام میں یہ ایک شرف اور خصوصیت ہے کہ اُس کی تائید اور تجدید کے واسطے ہر صدی پر مجدد آتے رہے اور آتے رہیں گے۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تشبیہ دی ہے۔“ یہاں مجدد کے بارے میں پھر بعض دفعہ لوگ غلطی کھا جاتے ہیں کہ اگر آتے رہیں گے تو کون ہوں گے؟ اس بارے میں ایک تفصیلی خطبہ میں پہلے دے چکا ہوں۔اُس سے بھی نوٹس لئے جاسکتے ہیں کہ خلفاء ہی مجدد ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بڑی وضاحت سے بیان بھی فرما چکے ہیں۔جماعت کے لٹریچر میں بھی یہ سب کچھ موجود ہے۔