خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 457
خطبات مسرور جلد 11 457 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2013ء اُس نے جب اس دفعہ دورے میں وہاں میری بات سنی ہے اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کے بارے میں اُسے علم ہوا تو وہ اپنے اخبار میں یہ لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ امام جماعت احمدیہ کی بات سن کر مجھے حقیقت کا علم ہوا ہے اور اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔اسی طرح گزشتہ خطبہ میں میں نے بتایا تھا کہ امریکہ میں ایک بڑے سیاستدان نے جمعہ کے حوالے سے غلط قسم کا پروگرام اپنے ریڈیو میں دیا یا با تیں کیں۔اس پروگرام کو سننے والوں کی تعداد بھی بہت بڑی ہے، لاکھوں میں ہے۔اس پر جمعہ کی اہمیت اور حقیقت قرآن کریم کی رُو سے کیا ہے؟ اس بارہ میں ہمارے ایک احمدی نوجوان نے اپنا آرٹیکل لکھا، ویب سائٹ پر دیا۔پھر اس شخص کو لکھا گیا۔یہ وہاں کا بڑا پولیٹیکل لیڈر ہے، مشہور آدمی ہے کہ تم نے غلط کہا ہے، اب ہمیں بھی ریڈیو پر وقت دو۔چنانچہ اُس نے وقت دیا۔یہ بہر حال اُس کی شرافت تھی اور ہمارے ایک احمدی نوجوان نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ریڈیو پر جمعہ اور اُس کے حوالے سے قرآن کے تقدس کے بارے میں بات کی تو اُس نے یہ تسلیم کیا کہ میری غلطی تھی اور اس پروگرام کو بھی لاکھوں افراد نے سنا۔اور یہ سب بھی اعتراف کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے ہی ہمیں حقیقی اسلامی تعلیم کا پتہ چلتا ہے۔پس یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ہمیں بتایا، ہمیں حقیقت سے آشکار کیا، اسی وجہ سے ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لئے بھیجا تھا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام دنیا پر روشن کریں، قرآن کریم کی تعلیم کو، حقیقت کو آشکار کریں۔پس اس وجہ سے جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ اسلام کی عظمت اور قرآن کریم کی عظمت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور وقار دنیا میں دوبارہ آپ کے ذریعہ سے قائم ہورہا ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم کسی بھی وجہ سے کسی احساس کمتری کا شکار ہوں اور نو جوانوں کو اس بارے میں حوصلہ رکھنا چاہئے۔جہاں جہاں بھی نوجوان ایکٹو (active ) ہیں اللہ کے فضل سے مخالفین کا منہ بند کر رہے ہیں۔پھر ہم میں سے ہر ایک کو یہ بھی پتہ ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننا کیوں ضروری ہے۔تیرہ چودہ سال کے بچے بھی یہ سوال کرتے ہیں اور والدین اُن کو صحیح طرح جواب نہیں دیتے۔اس بارے میں میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ہی بیان کر دیتا ہوں۔یہ تفصیلی ایک ارشاد ہے۔اس کو ذیلی تنظیمیں بعد میں اس کے حصے بنا کر سمجھانے کے لئے استعمال کر سکتی ہیں اور اس سے مزید رہنمائی بھی لے سکتی ہیں۔ایک موقع پر بعض مولویوں نے آپ سے سوال کیا کہ ہم اب نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔روزے بھی رکھتے ہیں۔قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان بھی لاتے ہیں تو پھر