خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 456 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 456

خطبات مسرور جلد 11 456 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2013ء دے سکتی ہیں۔اور جہاں یہ طریق اپنایا گیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیابی بھی ہوئی ہے۔بعض جگہ بعض سیکرٹریان تربیت ایسے بھی ہیں جنہوں نے تربیت کے لئے ایسے لوگوں کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے پروگرام بنائے اور اس کا اچھا اور بڑا خاطر خواہ اثر ہوا۔بڑی اچھی response ان لوگوں سے ملی۔بہر حال کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہم نے حتی الوسع ہر احمدی کو ضائع ہونے سے بچانا ہے۔یہ ہر عہد یدار کی ذمہ داری ہے، ہر مربی کی ذمہ داری ہے اور ہر سطح پر ذیلی تنظیموں اور جماعتی نظام کی ذمہ داری ہے۔اس اصولی بات کے بعد جو پہلی بات میں کرنا چاہتا ہوں ، وہ جیسا کہ میں نے کہا، ہر احمدی کو پتہ ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض کیا ہے؟ اور یہ کہ آپ کو ماننا کیوں ضروری ہے؟ اس کے لئے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ہی میں بیان کروں۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ” مجھے بھیجا گیا ہے تا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں اور قرآن شریف کی سچائیوں کو دنیا کو دکھاؤں اور یہ سب کام ہو رہا ہے لیکن جن کی آنکھوں پر پٹی ہے وہ اس کو دیکھ نہیں سکتے حالانکہ اب یہ سلسلہ سورج کی طرح روشن ہو گیا ہے اور اس کی آیات و نشانات کے اس قدر لوگ گواہ ہیں کہ اگر اُن کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو اُن کی تعداد اس قدر ہو کہ روئے زمین پر کسی بادشاہ کی بھی اتنی فوج نہیں ہے“۔فرمایا کہ: ”اس قدرصورتیں اس سلسلہ کی سچائی کی موجود ہیں کہ ان سب کو بیان کرنا بھی آسان نہیں۔چونکہ اسلام کی سخت تو ہین کی گئی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسی توہین کے لحاظ سے اس سلسلہ کی عظمت کو دکھایا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 9 مطبوعہ ربوہ ) اور یہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کی بات نہیں ہے بلکہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارے میں اور قرآن شریف کی سچائی کو دنیا میں قائم کرنے کے بارے میں اپنے لٹریچر میں ، اپنی کتب میں ، اپنے ارشادات میں جس طرح روشنی ڈال گئے ہیں ، وہ آج بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور قرآن شریف کی سچائی کو دشمنوں پر ثابت کر رہا ہے۔میں نے مختلف موقعوں پر مختلف مثالیں دی ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلوؤں کو غیروں کے سامنے بیان کیا جائے تو کس طرح وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اگر یہی سیرت ہے، یہی تعلیم ہے تو ہم غلطی پر تھے۔کچھ عرصہ ہوا اپنی کسی تقریر میں کینیڈا کے ایک مخالف اسلام کی میں نے مثال دی تھی جس نے ڈینش اخباروں کے کارٹون بھی اپنے رسالے میں ، اپنے اخبار میں شائع کئے تھے۔