خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 452
خطبات مسرور جلد 11 452 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اگست 2013ء کہ شادی ایک معاہدہ ہے جس کو نبھانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے اور اگر کہیں بدقسمتی سے اس معاہدے کو ختم بھی کرنا ہے تو پھر بھی بعض باتوں کا خیال رکھنا چاہئے اور ایک دوسرے کے راز رکھنے چاہئیں۔یہاں اگر عورت کو برابری کا حق ملا ہے، خدا تعالیٰ نے عورت کے لئے قائم کیا ہے تو عورت کا بھی فرض ہے کہ وہ بھی قولِ سدید سے کام لیتے ہوئے ، عدل سے کام لیتے ہوئے اس عہد کو پورا کرنے کے لئے اپنے گھر کی ذمہ داریاں نبھائے اور اگر کوئی ایسی صورت ہو تو بلا وجہ مردوں پر بھی بہتان تراشی نہ کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس معیار کے متعلق ، جو ایک مومن کا ہونا چاہئے فرماتے ہیں کہ : ”وہ مومن جو اپنے معاملات میں خواہ خدا کے ساتھ ہیں، خواہ مخلوق کے ساتھ ، بے قید اور خلیع الرسن نہیں ہوتے بلکہ اس خوف سے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کسی اعتراض کے نیچے نہ آ جاویں اپنی امانتوں اور عہدوں میں دُور دُور کا خیال رکھ لیتے ہیں اور ہمیشہ اپنی امانتوں اور عہدوں کی پڑتال کرتے رہتے ہیں اور تقوی کی دُور بین سے اس کی اندرونی کیفیت کو دیکھتے رہتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ در پردہ ان کی امانتوں اور عہدوں میں کچھ فتور ہو۔اور جو امانتیں خدا تعالیٰ کی ان کے پاس ہیں جیسے تمام قومی اور تمام اعضاء اور جان اور مال اور عزت وغیرہ، ان کو حتی الوسع اپنی بپابندی تقویٰ بہت احتیاط سے اپنے اپنے محل پر استعمال کرتے رہتے ہیں۔اور جو عہد ایمان لانے کے وقت خدا تعالیٰ سے کیا ہے کمال صدق سے حتی المقدور اس کے پورا کرنے کے لئے کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ایسا ہی جو امانتیں مخلوق کی ان کے پاس ہوں یا ایسی چیزیں جو امانتوں کے حکم میں ہوں ان سب میں تا بمقدور تقویٰ کی پابندی سے کار بند ہوتے ہیں۔اگر کوئی تنازع واقع ہو تو تقویٰ کو مد نظر رکھ کر اس کا فیصلہ کرتے ہیں گو اس فیصلہ میں نقصان اٹھا لیں۔“ ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 208) تمام اعمال میں تقویٰ کی باریک راہوں سے کام لینا پڑتا ہے فرمایا: ” انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقوی کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے۔تقویٰ کی باریک راہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط و خال ہیں۔اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قومی اور اعضاء ہیں جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں اور باطنی طور پر دل اور دوسری قو تیں اور اخلاق ہیں، ان کو جہاں تک طاقت ہو ، ٹھیک ٹھیک محلِ ضرورت پر استعمال کرنا اور نا جائز مواضع سے روکنا اور اُن کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق عباد کا بھی لحاظ رکھنا، یہ وہ طریق ہے جو انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے۔اور خدا تعالیٰ نے قرآنِ