خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 451 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 451

خطبات مسرور جلد 11 451 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اگست 2013ء پس ایک احمدی کو ہر معاملے میں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔عہد پورا نہ کرنے کی وجہ سے ایک اور برائی کا بھی میں ذکر کرنا چاہتا ہوں جو گھر سے نکل کر دو گھروں بلکہ خاندانوں کے سکون برباد کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔پہلے بھی اس کا ذکر ہو چکا ہے اور وہ خلع اور طلاق کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل نہ کرنا ہے اور اپنے عہد کو توڑنا ہے۔ان رشتوں میں انصاف اور قولِ سدید کا ذکر پہلے ہو چکا ہے، جس پر اگر عمل ہو تو مسائل آرام سے سمجھ جائیں یا پیدا ہی نہ ہوں۔لیکن مسائل کے پیدا ہونے پر ،میاں بیوی کے تعلق میں اختلاف ہونے پر اللہ تعالیٰ نے جو نصیحت ہمیں فرمائی ہے وہ خاص طور پر خاوند کو سامنے رکھنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِنْ اَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَاتَيْتُمْ اِحْدُهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا اَتَأَخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أفضى بَعْضُكُمْ إِلى بَعْضٍ وَآخَذُنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا (النساء : 22-21) اور اگر تم ایک بیوی کو دوسری بیوی کی جگہ تبدیل کرنے کا ارادہ کرو اور تم ان میں سے ایک کو ڈھیروں مال بھی دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔کیا تم اسے بہتان تراشی کرتے ہوئے اور کھلے کھلے گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے لو گے؟ اور تم کیسے وہ لے لو گے جبکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور وہ تم سے وفا کا پختہ عہد لے چکی ہے۔ہمارے ہاں خلع طلاق کے مسائل میں اگر اس حکم پر عمل کی کوشش ہو تو جو جھگڑے قضاء میں لمبا عرصہ چلتے چلے جاتے ہیں، وہ نہ ہوں۔بعض طلاق دے کر عملاً بہتان تراشی بھی کرتے ہیں۔یہ تو کھلا کھلا گناہ ہے۔اگر کوئی حقیقت بھی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ پر معاملہ چھوڑنا چاہئے۔اور اُس کے لئے بھی گواہیوں کی بہت ساری شرائط ہیں۔دوسری اہم بات کہ شادی ایک معاہدہ ہے۔مرد اور عورت کے عہد و پیمان ہوتے ہیں۔خاوند بیوی میں عہد ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ علیحدگی میں جو یہ عہد و پیمان ہیں، بیشک اس کا کوئی ظاہری گواہ نہیں ہے لیکن اس عہد کو پورا کرنا بھی ضروری ہے۔خدا تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے۔پس اگر کسی وجہ سے اس عہد کو ، رشتے کو ختم بھی کر رہے ہو تب بھی اُن باتوں کا پاس کرو جو تمہاری علیحدگی میں باتیں ہو چکی ہیں۔تب بھی جو تحفے تحائف دے چکے ہو اُن کا مطالبہ نہیں کرنا۔اور سوائے اس کے کہ قاضی بعض کھلی غلطیوں کو لڑکی کی طرف دیکھے اور فیصلہ دے، مرد کو ہر صورت میں مقررہ حق مہر ادا کرنا چاہئے۔یہ بہانے کہ جی ضلع ہے تو حق مہر نہیں دینا ، اس کا حق مہر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس قسم کے بہانے نہیں ہونے چاہئیں۔اس کی اور بھی تفصیلات ہیں۔اس وقت میں صرف اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ مرد اور عورت کو یہ یادرکھنا چاہئے