خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 450 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 450

خطبات مسرور جلد 11 450 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 اگست 2013ء مسلمان ممالک میں جتنے بھی لیڈر ہیں، اُن کا یہی حال ہے کہ نہ وہ اپنے فرائض عدل اور انصاف سے بجالا رہے ہیں اور نہ ہی عوام کے حقوق ادا کر رہے ہیں اور بے خوف بیٹھے ہیں کہ شاید پوچھے نہیں جائیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ضرور پوچھے جاؤ گے۔عہدیداروں کا ذکر پہلے ہو چکا ہے کہ وہ انصاف سے کام لیں۔وہ بھی اگر اپنا حق ادا نہیں کر رہے، جماعت کے کام کے لئے جتنا وقت دینا چاہئے اتنا وقت نہیں دے رہے، غور کر کے فیصلے نہیں کر رہے، افراد جماعت کے ساتھ معاملات میں انصاف نہیں کر رہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔اور ایک عام احمدی کے عہد پورا کرنے کے بارے میں جو اُس پر ذمہ داری ہے اور جس کو اُس نے نبھانا ہے اُس کا بھی ذکر میں کر آیا ہوں کہ شرائط بیعت کا عہد اگر پورا کرنے کی کوشش نہیں کر رہے تو خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔پھر ایک اور اہم عہد ہے جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں جو ہر ملک کا شہری خدا کو گواہ بنا کر یا قرآن کو گواہ بنا کر ملک سے کر رہا ہوتا ہے یا بعض دفعہ اگر صرف ملک کے بادشاہ کے نام پر عہد لے رہا ہو تب بھی یہ ایک ایسا عہد ہے جس کو پورا کرنا اور اس کو نبھانا ایک مسلمان پر فرض ہے اور نہ پورا کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔اس کی باریکیوں پر بھی احمدیوں کو غور کرنا چاہئے۔مجھے یہ اطلاع ہے کہ بعض جگہ بعض لوگ جو اپنے کاروبار کرتے ہیں، اُن کا روباروں میں ملازم رکھتے ہیں تو اُسے کم تنخواہ دیتے ہیں یا کم تنخواہ ظاہر کرتے ہیں کہ باقی benefit کونسل سے claim کر لو۔کہتے تو یہ ہیں کہ ہم تمہارے فائدے کے لئے کام کر رہے ہیں لیکن خود بھی جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں اور اُس سے بھی جھوٹ بلوار ہے ہوتے ہیں۔خود بھی بد عہدی کر رہے ہوتے ہیں اور اُس سے بھی بدعہدی کروا رہے ہوتے ہیں۔عملاً یہ ہے کہ اپنا فائدہ اُٹھا رہے ہوتے ہیں۔ایسے لوگ پھر ایسے بچائے ہوئے پیسے کی جو کمائی کرتے ہیں تو اُس پر ٹیکس بھی بچاتے ہیں جوحکومت کا نقصان ہے۔حکومت سے کئے گئے عہد کی بدعہدی ہے اور اُن ملازمین کو کم تنخواہ دے کر اور پورا کام لے کر یا کچھ حد تک اس تنخواہ سے زیادہ کام لے کر کونسل سے اُن کے الاؤنس دلوا کر پھر قومی خزانے کو نقصان پہنچارہے ہوتے ہیں۔تو یہ سب باتیں جو ہیں، یہ سراسر ظلم ہیں اور عہد کوتوڑنا ہے جو یہاں کی شہریت لیتے ہوئے ایک شخص کرتا ہے۔یہ عہد بیعت کو بھی توڑنا ہے کیونکہ وہاں بھی یہی ہے کہ میں ہمیشہ سچائی سے کام لوں گا۔پس ایسے لوگ حکومت کا عہد بھی توڑ رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کا عہد بھی تو ڑ رہے ہیں اور گناہگار بھی بن رہے ہیں۔۔