خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 449 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 449

خطبات مسرور جلد 11 449 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 اگست 2013ء فرما یا کسی کو کسی قسم کی تکلیف نہ دینا۔پھر خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کا تعلق اور کبھی شکوہ نہ کرنا۔جب اللہ تعالیٰ انعامات دیتا ہے تو اُس کا شکر گزار ہونا اور اگر بعض امتحانات میں سے گزرنا پڑتا ہے تب بھی شکوہ نہیں کرنا۔دنیا کی رسوم سے اپنے آپ کو آزاد کروا کر، ہر قسم کی ہوا و ہوس سے اپنے آپ کو بچا کر اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل کرنا۔تکبر اور بڑائی چھوڑ کر عاجزی اور انکساری کو اختیار کرنا۔اسلام کی عزت کو اپنی جان، مال اور اولاد سے بڑھ کر عزیز رکھنا مخلوق کی ہمدردی اور انسانیت کو فائدہ پہنچانے کے لئے اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ کوشش کرنا۔خدمت خلق کا یہ جذبہ بہت زیادہ ہونا چاہئے۔اور پھر یہ فرما یا کہ آپ سے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت اور آپ کی اطاعت کا غیر معمولی نمونہ قائم کرنا اور کسی چیز کو اس کے مقابلے پر اہمیت نہ دینا۔پس یہ عہد ہے جو ہم نے احمدیت میں داخل ہو کر کیا ہے۔اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک ہم اس عہد کو پورا کر رہے ہیں۔رمضان میں بہت ساری نیکیاں کرنے کی توفیق ملتی ہے۔یہ بھی جائزہ لینا چاہئے تھا اور لینا چاہئے۔آج بھی آخری دن ہے بلکہ سارا سال ہمیں لیتے رہنا چاہئے۔اس میں نیکیوں کی طرف جو توجہ پیدا ہوئی ہے اُس کو جاری رکھنا چاہئے کہ کس حد تک ہم ان پر عمل کر رہے ہیں یا کس حد تک ہم اللہ تعالیٰ سے عہد وفا کو نبھا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم یہ عہد کرو گے تو تمہیں اجر عظیم ملے گا۔ایسا اجر ملے گا جس کا تم سوچ بھی نہیں سکتے۔اس عہد پر قائم رہنے کا عہد کرو اور اُس پر عمل کرو۔پھر اللہ تعالیٰ یہ بھی وعدہ فرماتا ہے کہ جب تم اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہدوں کو پورا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کو بھی صاف کر کے ہر قسم کی میل کچیل سے پاک کر کے اُن متقیوں میں شامل کرے گا، اُن لوگوں میں شامل کرے گا جو اُس کے مقرب ہوں گے، جن سے خدا تعالیٰ محبت کرتا ہے۔اور یہ نہ سمجھو کہ اگر عہد پورے نہ کئے تو صرف انعامات کے مستحق نہیں ٹھہرو گے، بلکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے سے تمہارے عہدوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔اس میں ہر قسم کے عہد شامل ہیں۔جو خدا تعالیٰ سے عہد کئے گئے ہیں اُن کو بھی پورا نہ کرنے پر جواب طلبی ہوگی اور جو بندوں سے عہد کرتے ہو، جو قرآن شریف کے حکم کے مطابق عہد ہوں، انہیں بھی تم اگر پورا نہیں کرو گے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے اُس کی بھی جواب طلبی ہوگی۔مثلاً گزشتہ خطبہ میں یتامی کی پرورش کے بارے میں حکم گزر چکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو سنبھالنے کی ذمہ داری لینے کو بھی ایک عہد قرار دیا ہے۔فرمایا کہ اگر تم اس ذمہ داری کو نہیں نبھا ر ہے تو عہد توڑ رہے ہو جس کے بارے میں خدا تعالیٰ باز پرس فرمائے گا۔اسی طرح حکام ہیں، اگر وہ اپنی حکومت کے کاروبار کو صحیح طرح نہیں سنبھال رہے تو وہ بھی جواب دہ ہیں۔اگر عوام کا حق ادا نہیں کر رہے تو وہ بھی پوچھے جائیں گے۔بدقسمتی سے