خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 448
خطبات مسرور جلد 11 448 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اگست 2013ء ( نور القرآن نمبر 2 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 409-410) پس یہ وہ معیار ہے جس کے حصول کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔عدل اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے بعد میں نے مختلف موقعوں پہ ، معاشرے کے مختلف طبقوں کے بارے میں جو باتیں کیں، اب اللہ تعالیٰ جو حکم ہمیں دیتا ہے وہ یہ ہے کہ وَبِعَهْدِ الله أوفوا (الانعام : 153 ) کہ اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو۔اسلام کی ایک اور خوبصورت تعلیم اور خدا تعالیٰ کے ایک اہم حکم کی طرف یہاں توجہ دلائی جارہی ہے کہ تمام احکامات پر عمل انسان کی اخلاقی اور دینی خوبصورتی کے لئے ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مختلف جگہوں پر احکامات کو مختلف مواقع کے لحاظ سے جو کھول کر بیان فرمایا ہے تو یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر یا اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یہ کام ہونے چاہئیں۔یہاں یہ حکم دیا کہ یہ اُس وقت ہو سکتا ہے جب تمہارے دل صاف ہوں، جب تمہارے دل اس جذبے سے بھرے ہوئے ہوں کہ میں نے ہر عمل جو کرنا ہے وہ اس سوچ کے ساتھ کرنا ہے، ہر حکم پر عمل کی طرف اس لئے تو جہ کرنی ہے کہ میں نے اپنے خدا سے کئے گئے عہد کو پورا کرنا ہے اور سب سے بڑا عہد جو اللہ تعالیٰ سے ایک مومن کا ہے، ایک احمدی کا ہے وہ عہد بیعت ہے۔اگر اس عہد کی حقیقت کو ہم سمجھ لیں تو خود بخود تمام احکام پر عمل اور نیکیاں کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شرائط بیعت میں جو عہد لیا ہے اُس میں اس طرح جامع طور پر ہمیں پابند کیا ہے کہ اگر ہم انہیں وقتا فوقتا د ہراتے رہیں تو احمدی معاشرہ تمام برائیوں سے پاک ہوسکتا ہے۔مختصراً میں یہ بیان کرتا ہوں کہ شرائط بیعت میں ہم کیا عہد کرتے ہیں۔پہلی بات یہ کہ زندگی کے آخری لمحے تک شرک نہیں کرنا اور شرک کی مختلف قسمیں ہیں جن کا رمضان کے مہینے میں شروع کے خطبات میں پہلے بڑی تفصیل سے بیان ہو چکا ہے۔پھر یہ کہ جھوٹ ، زنا، بد نظری ،فسق و فجور، خیانت، بغاوت، فساد سے بچنا ہے۔ان میں بھی فحشاء کے ضمن میں ان کا بیان ہو چکا ہے۔اور کبھی ان کو اپنے اوپر غالب نہیں آنے دینا۔پھر یہ کہ نمازوں کی پابندی، درود اور استغفار پر زور اور باقاعدگی ہو۔اپنے اوپر اللہ تعالی کے احسانوں کو یاد کرنا اور اس بات پر اُس کی حمد کرنا۔یہاں آئے ہوئے بہت سارے لوگ جو پاکستان میں حالات کی وجہ سے یہاں آئے ہیں اُن پر تو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا احسان کیا ہے۔آزادی بھی دی اور مالی طور پر بہت بہتر کر دیا۔پس اس بات پر بجائے کسی فخر اور تکبر اور غرور کے اللہ تعالیٰ کی حمد ہونی چاہئے ، اُس کے احسانوں کا شکر گزار ہونا چاہئے۔پھر