خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 447
خطبات مسرور جلد 11 447 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اگست 2013ء حاصل ہوتا ہے جب دشمن سے بھی عدل اور انصاف کا سلوک کیا جائے۔تبھی ایک حقیقی مسلمان ہونے کا معیار حاصل ہو گا۔تبھی تبلیغ کے راستے کھلیں گے۔تبھی اسلام کی حقیقی تعلیم غیروں پر واضح ہوگی۔یہاں بھی آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارے ہر عمل کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔اگر تمہارے یہ معیار نہیں تو پھر تم تقویٰ پر چلنے والے نہیں کہلا سکتے۔قوام کہہ کر مستقل انصاف پر قائم رہنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرما دیا۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ نے عدل کے بارے میں جو بغیر سچائی پر پورا قدم مارنے کے حاصل نہیں ہوسکتی ، فرمایا ہے لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى الَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوى (المائدة: 9) یعنی دشمن قوموں کی دشمنی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔انصاف پر قائم رہو کہ تقویٰ اسی میں ہے۔اب آپ کو معلوم ہے کہ جو قو میں ناحق ستاویں اور دُکھ دیویں اور خونریزیاں کریں اور تعاقب کریں اور بچوں اور عورتوں کو قتل کریں، جیسا کہ مکہ والے کافروں نے کیا تھا اور پھر لڑائیوں سے باز نہ آویں، ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات میں انصاف کے ساتھ برتاؤ کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔مگر قرآنی تعلیم نے ایسے جانی دشمنوں کے حقوق کو بھی ضائع نہیں کیا اور انصاف اور راستی کے لئے وصیت کی۔جس سے مخاطب ہیں اُس کو فرماتے ہیں کہ ”مگر آپ تو تعصب کے گڑھے میں گرے ہیں ان پاک باتوں کو کیونکر سمجھیں۔انجیل میں اگر چہ لکھا ہے کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرو۔مگر یہ نہیں لکھا کہ دشمن قوموں کی دشمنی اور ظلم تمہیں انصاف اور سچائی سے مانع نہ ہو۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے مگر دشمن کے حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل اور انصاف کو ہاتھ سے نہ دینا ، یہ بہت مشکل اور فقط جوانمردوں کا کام ہے۔اکثر لوگ اپنے شریک دشمنوں سے محبت تو کرتے ہیں اور میٹھی میٹھی باتوں سے پیش آتے ہیں مگر اُن کے حقوق دبا لیتے ہیں۔ایک بھائی دوسرے بھائی سے محبت کرتا ہے اور محبت کے پردے میں دھوکا دے کر اُس کے حقوق دبا لیتا ہے۔مثلاً اگر زمیندار ہے تو چالا کی سے اُس کا نام کاغذات بندوبست میں نہیں لکھواتا۔( وہ کاغذات جوسرکاری ریکارڈ میں ہوتے ہیں، اُس میں نہیں لکھواتا ) ”اور یوں اتنی محبت کہ اُس پر قربان ہوا جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے اس آیت میں محبت کا ذکر نہ کیا بلکہ معیارِ محبت کا ذکر کیا۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ محبت کرو، بلکہ اُس معیار کا ذکر کیا جو محبت کا معیار ہونا چاہئے اور وہ کیا ہے؟ انصاف۔فرمایا: ” کیونکہ جو شخص اپنے جانی دشمن سے عدل کرے گا اور سچائی اور انصاف سے در گزر نہیں کرے گا وہی ہے جو سچی محبت بھی کرتا ہے۔“