خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 446 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 446

خطبات مسرور جلد 11 446 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اگست 2013ء حاکموں سے بھی پوچھے گا اور حساب لے گا اور جو خدا تعالیٰ کے نام پر کسی کام کے لئے مقرر کئے جائیں اگر وہ اپنی امانتوں کے حق ادا نہیں کر رہے اور انصاف کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا ئیں گے تو دنیا داروں سے بڑھ کر پوچھے جائیں گے۔پس ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ استغفار کرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے، عاجزی دکھاتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کریں۔اللہ تعالی تمام عہد یداروں کو ، تمام خدمت کرنے والوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ گھریلو ماحول کا روباری معاملات ، عہد یداروں کے معاملات میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے بعد انصاف قائم کرنے کے لئے اسلام مزید کیا حکم دیتا ہے؟ تو ہمیں ایک ایسا حکم نظر آتا ہے جو معاشرے بلکہ پوری دنیا میں انصاف اور امن قائم کرنے کی ضمانت ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ مائدہ کی آیت 9 میں فرماتا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُون (المائدة: 9) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو۔یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے۔اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔یقینا اللہ تعالیٰ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔دیکھیں! دنیا سے فتنہ و فساد ختم کرنے کی یہ کتنی خوبصورت تعلیم ہے۔اسلام پر اعتراض کرنے والے نہا اپنی دنیاوی تعلیم میں ، قوانین میں ، اور نہ ہی کسی دینی تعلیم میں ایسی خوبصورت تعلیم کی مثال پیش کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ مومنوں کو فرماتا ہے۔كُونُوا قَوامِینَ لِلہ کہ اللہ کی خاطر قوام بن جاؤ۔اور قوام کا مطلب ہے کہ جو اپنا کام انتہائی احسن طریق پر بغیر نقص کے اور مستقل مزاجی سے کرتا چلا جائے۔پس حقیقی مؤمن جو کام کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی خاطر کرتا ہے اور پھر اُس میں نہ کبھی جھول آنے دیتا ہے، یا جھول نہ آنے دینے کی کوشش کرتا ہے۔اور نہ ہی کبھی سست ہوتا ہے، نہ ہی ذاتی مفادات کے تابع ہوتا ہے۔فرمایا کہ مومن کا کام ہے کہ انصاف کی تائید میں گواہی دے۔انصاف کا معیار کیا ہے؟ انصاف کا معیار صرف بیوی اور رشتہ داروں سے انصاف کرنا نہیں ہے۔اپنے ساتھ کاروبار کرنے والوں سے انصاف کرنا نہیں ہے۔اپنے افسروں اور ماتحتوں کے لئے نیک خیالات اور اُن سے حسنِ سلوک کرنا اور انصاف کرنا نہیں ہے۔بلکہ انصاف کا معیار اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے ساتھ انصاف کرنا رکھا ہے۔کیونکہ حقیقی تقویٰ اُسی وقت