خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 445
خطبات مسرور جلد 11 445 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اگست 2013ء پورے کرتے ہوئے ، امانت کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی نظر میں ایسے عہد یدار منتخب کریں جو اپنے کام سے انصاف کر سکیں۔بہر حال انتخاب تو ہو گئے۔بعض جگہ خود منتخب کرنے والوں نے اپنی نظر میں بہتر عہدے داران منتخب کئے۔بعض جگہ میں نے خود بعض تبدیلیاں کیں یا مشورے دینے والوں کے مشورے نہیں مانے اور اگر کوئی اچھا کام کر رہا تھا تو اس کو رہنے دیا۔ہر ایک کام کرنے کا ایک لیول ہے۔جب اس تک کوئی انسان پہنچ جاتا ہے، اُس کی صلاحیتیں پہنچ جاتی ہیں تو پھر مزید اس شعبہ میں ترقی نہیں ہوتی اور ہو سکتا ہے کہ وہی شخص جو ایک جگہ زیادہ بہتر کام نہ کر رہا ہو، دوسری جگہ بہتر کام کر دے۔اس لئے بھی بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بعض تبدیلیاں ناراضگی کی وجہ سے کی گئی ہیں۔ناراضگی سے زیادہ جماعتی مفاد کو دیکھا گیا ہے۔جہاں میں نے سمجھا کہ جماعتی مفاد اس میں ہے کہ تبدیلیاں کی جائیں، وہاں انصاف کا تقاضا یہی تھا کہ ایسے شعبوں میں تبدیلیاں کی جائیں۔دلوں کا حال تو خدا تعالیٰ جانتا ہے۔ہم تو مشورے اور فیصلے ظاہری حالت کے مطابق ہی کرتے ہیں یا کر سکتے ہیں۔لیکن بعض مقامی جماعتوں میں، بعض ممالک میں ابھی بھی ذاتی پسند اور قرابت داری کو ترجیح دیتے ہوئے عہدیدار منتخب کئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو عقل دے اور اُن پر بھی رحم فرمائے جو ذاتی ترجیحات کو انصاف پر مقدم سمجھتے ہیں۔بہر حال یہ انتخاب تو ہو گئے ، اب جو عہدیدار منتخب ہوئے ہیں اُن کا فرض بنتا ہے کہ اپنی کمزوریوں کو خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہوئے اُس سے مغفرت اور مدد کے طالب ہوں اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔عہدہ بھی ایک خدمت ہے، اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے، ایک انعام ہے۔اُس کی قدر کرنی چاہئے۔احباب جماعت سے سلوک میں، اُن کے معاملات کو حل کرنے میں، اُن کی تربیت پر توجہ دینے میں جماعت کے مقاصد کے حصول کے لئے پروگرام بنانے میں، ان سب باتوں میں انصاف سے کام لیں اور محنت کریں۔محنت سے کام کرنے کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔کیونکہ تحكموا بالعمل (النساء: 59)۔کہ انصاف سے حکومت کرو، اس کے تقاضے تبھی پورے ہوں گے جب اپنی تمام تر استعدادوں اور صلاحیتوں کے ساتھ دین کی خدمت کا جو کام ملا ہے، اُسے سرانجام دیں گے۔اس میں ہر عہد یدار شامل ہے۔مقامی سطح پر بھی اور نیشنل لیول پر بھی ان باتوں کا اُسے خیال کرنا چاہئے۔جماعت کا مفاد ہر ذاتی مفاد سے بالا ہونا چاہئے ، اُس پر حاوی ہونا چاہئے ، ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ گہری نظر رکھتا ہے۔ہمارے ایک ایک پل کا جو بھی عمل ہے اُس کے علم میں ہے اور وہ شمار ہو رہا ہے۔پس خدمت دین کا جو موقع ملا ہے اُسے فضلِ الہی سمجھ کر بجا لانے کی کوشش اب ہر منتخب یا مقرر کئے جانے والے عہد یدار کو کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ تو دنیاوی