خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 444 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 444

خطبات مسرور جلد 11 444 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اگست 2013ء کہ انصاف پر مبنی اور حقائق پر مبنی نہ بیان دیئے جاتے ہیں، نہ ہی گواہان اپنی گواہیاں دیتے ہیں۔اسی طرح لین دین کے معاملات ہیں، ان میں بھی بعض لوگ عارضی اور ذاتی فائدے کے لئے تقویٰ سے دُور ہٹ کر آگ کا گولہ لے رہے ہوتے ہیں۔یہ آگ کا گولہ لینے والی جو حدیث ہے اس میں بھی دو بھائیوں کی جائیداد کا ذکر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو یہی فرمایا کہ اگر کوئی چرب زبان ہے تو میرے سے فیصلہ کر والے گا۔لیکن یہ آگ کا گولہ ہے جو میں تمہیں دوں گا۔اور قیامت کے دن یہی پھندا بنے گا۔اس پر دونوں بھائیوں نے چیخ ماری اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہا کہ ہم کچھ نہیں لیتے۔اپنا حق چھوڑتے ہیں اور دوسرے کو دیتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حق چھوڑنا بھی غلط ہے۔تم لوگوں کا حق ہے تو ضرور لو اور اگر فیصلہ نہیں کر رہے، کوئی ایسے کاغذات نہیں ہیں جو ثبوت ہوں، کوئی گواہیاں ایسی نہیں جو ثبوت کے طور پر پیش ہو سکیں تو قرعہ اندازی کرلو، جو جس کے حصہ میں آئے وہ اُس پر راضی ہو جائے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 642-643 حدیث ام سلمة زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث نمبر 27253 عالم الكتب بيروت 1998ء)۔تو یہ ہے فیصلے نپٹانے کا طریقہ۔اور یہ ہے تقویٰ کا وہ معیار جو ایک مومن میں ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر رحم فرمائے اور عقل دے جو انصاف کرنے میں روک بن رہے ہوتے ہیں۔اگر گھر یلو سطح پر بھی اور کاروباری معاملات میں بھی سچائی پر مبنی گواہیاں ہوں ، عدل قائم کرنے کے لئے گواہیاں ہوں تو ہمارا معاشرہ جنت کا نمونہ اس دنیا میں بھی پیش کر سکتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا، قرآن کریم میں عدل کے بارے میں بھی تفصیلی احکامات ہیں۔اس بارے میں ایک دو اور آیات میں پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ سورۃ نساء میں ہی فرماتا ہے کہ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا (النساء: 59) کہ یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں اُن کے حق داروں کے سپرد کیا کرو۔اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔یقینا بہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔یقینا اللہ بہت سنے والا اور گہری نظر ر کھنے والا ہے۔اس آیت میں پہلی بات تو امانتوں کو حق داروں کے سپرد کرنے کی بیان فرمائی۔اس بارے میں کچھ عرصہ پہلے میں ایک تفصیلی خطبہ دے چکا ہوں کہ یہ سال عہدیداران کے انتخاب کا سال ہے۔اس لئے ذاتی خواہشات کو سامنے رکھتے ہوئے نہیں، خاندانی تعلقات کو سامنے رکھتے ہوئے نہیں، بلکہ انصاف کے تقاضے