خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 38 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 38

خطبات مسرور جلد 11 38 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2013ء قادیان میں ایسے حالات بھی آئے ، اتنی مالی تنگی تھی کہ جماعتی کارکنان کو کئی کئی مہینے اُن کا جو بنیادی گزارہ الاؤنس مقرر تھا ، وہ بھی پورا نہیں دیا جا سکتا تھا۔اسی طرح شروع میں ہجرت کے بعد ربوہ میں بھی ایسے حالات رہے ہیں لیکن ان سب حالات کے باوجود کبھی اُس زمانے کے واقفین زندگی نے شکوہ زبان پر لاتے ہوئے اپنے کام کا حرج نہیں ہونے دیا۔بلکہ یہ تو دور کی باتیں ہیں۔ستر اور اسی کی دہائی میں افریقہ کے بعض ممالک میں بھی ایسے حالات رہے جو مشکل سے وہاں گزارہ ہوتا تھا۔جوالا ؤنس جماعت کی طرف سے ملتا تھا، وہ زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس دن میں ختم ہو جاتا تھا۔مقامی واقفین تو جتنا الاؤنس اُن کو ملتا تھا اس میں شاید دن میں ایک وقت کھانا کھا سکتے ہوں۔لیکن انہوں نے اپنے عہد وقف کو ہمیشہ نبھایا اور تبلیغ کے کام میں کبھی حرج نہیں آنے دیا۔چوتھی بات یہ کہ اپنے آپ کو اُن لوگوں میں شامل کرنے کے احساس کو ابھارنا اور اس کے لئے کوشش کرنا جو نیکیوں کے پھیلانے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہیں۔اپنے اخلاق کے اعلیٰ نمونے قائم کرنا ، جب ایسے اخلاق کے اعلیٰ نمونے قائم ہوں گے، نیکیاں سرزد ہو رہی ہوں گی ، برائیوں سے اپنے آپ کو بچارہے ہوں گے تو ایسے نمونے کی طرف لوگوں کی توجہ خود بخود پیدا ہوتی ہے۔لوگوں کی آپ پر نظر پڑے گی تو پھر مزید اس کا موقع بھی ملے گا۔پس یہ احساس اپنے اندر پیدا کرنا بہت ضروری ہے اور کوشش بھی ساتھ ہو۔پانچویں بات یہ کہ نیکیوں اور برائیوں کی پہچان کے لئے قرآن اور حدیث کا فہم و ادراک حاصل کرنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب اور ارشادات کو پڑھنا۔اپنے دینی علم کو بڑھانے کے لئے ہر وقت کوشش کرنا۔بیشک ایک بچہ جو جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرتا ہے وہاں اُسے دینی علم کی تعلیم دی جاتی ہے۔لیکن وہاں سے پاس کرنے کے بعد یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اب میرے علم کی انتہا ہوگئی۔بلکہ علم کو ہمیشہ بڑھاتے رہنے کی کوشش کرنی چاہئے، ایک دفعہ کا جو تفقہ فی الدین ہے اُس وقت فائدہ رساں رہتا ہے جب تک اُس میں ساتھ ساتھ تازہ علم شامل ہوتا رہے۔تازہ پانی اُس میں ملتا ر ہے۔اسی طرح جو جامعہ میں نہیں پڑھ رہے، اُن کو بھی مسلسل پڑھنے کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔یہ نہیں کہ جو واقفین کو دنیاوی تعلیم حاصل کر رہے ہوں اُن کو دینی تعلیم کی ضرورت نہیں ہے۔جتنا لٹریچر میسر ہے، اُن کو پڑھنے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔قرآنِ کریم کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو جو کتب اُن کی زبانوں میں ہیں اُن کو پڑھنے کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔