خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 427 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 427

خطبات مسرور جلد 11 427 31 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اگست 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سروراحمدخلیفة فرمودہ مورخہ 02 اگست 2013ء بمطابق 02 ظہور 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں سورۃ الانعام کی آیات 152 اور 153 کے حوالے سے میں اُن احکامات کے بارے میں بتا رہا تھا۔جو اُس میں بیان کئے ہوئے ہیں۔تین امور یعنی شرک سے بچنے ، والدین سے حسن سلوک اور والدین کے لئے اولاد کی تربیت کی اہمیت کے بارے میں بیان ہوا تھا۔باقی احکامات جو ان آیات میں ہیں اور جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ کہ جو تمہارے رب نے تم پر حرام کئے ہیں۔ان احکامات کے بارے میں کچھ ذکر کروں گا جو ان آیات میں بیان کئے گئے ہیں۔یہ بھی شاید آج ختم نہیں ہوں گے۔بہر حال چوتھی بات جو بیان کی گئی وہ یہ ہے کہ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بطن (الانعام : 152 ) اور فحشاء کے قریب بھی نہ جاؤ، نہ ظاہری فحشاء اور بے حیائیوں کے ، نہ چھپی ہوئی بےحیائیوں کے۔اس ایک حکم میں مختلف قسم کی بے حیائیوں اور برائیوں سے روکا گیا ہے۔الْفَوَاحِشَ کے مختلف معنی ہیں۔اس کے معنی زنا بھی ہیں۔اس کے معنی زیادتیوں میں بڑھنے کے بھی ہیں۔اس کے معنی اخلاق سے گری ہوئی اور اخلاق کو پامال کرنے والی حرکات کے بھی ہیں۔اس کے معنی فتیح گناہ اور شیطانی حرکتوں کے بھی ہیں۔ہر بری بات کہنے اور کرنے کے بھی ہیں۔اس کے معنی بہت بخیل ہونے کے بھی ہیں۔پس اس حکم میں ذاتی اور معاشرتی برائیوں کا قلع قمع کیا گیا ہے، یا وہ باتیں جن سے گھر، ماحول اور معاشرے میں بے حیائیاں پھیلتی ہیں اُن کا سد باب کیا گیا ہے۔