خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 425 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 425

خطبات مسرور جلد 11 425 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2013ء ہیں۔عموماً کام ہی ہور ہے ہوتے ہیں کہ نوکریاں کر رہی ہوتی ہیں۔بچے سکولوں سے گھر آتے ہیں تو انہیں سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ماؤں کا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ گھر کے اخراجات کے لئے کمائی کرتی ہیں لیکن بہت ساری تعداد میں ایسی بھی ہیں جو اپنے اخراجات کے لئے یہ کمائی کر رہی ہوتی ہیں۔اور جب تھکی ہوئی کام سے آتی ہیں تو بچوں پر توجہ نہیں دیتیں۔یوں بچے بعض دفعہ عدم توجہ کی وجہ سے، احساس کمتری کی وجہ سے ختم ہو رہے ہوتے ہیں۔بیشک ایسی بیویاں اور مائیں بھی ہیں جن کے بارے میں اطلاعات ملتی رہتی ہیں جن کے خاوند سکتے ہیں اور خاوندوں کے نکتے پن کی وجہ سے مجبور ہوتی ہیں کہ کام کریں۔پس ایسے خاوندوں کو اور ایسے باپوں کو بھی خوف خدا کرنا چاہئے کہ وہ اپنے نکھے پن کی وجہ سے اپنی اولاد کے قتل کا موجب نہ بنیں۔پھر خاوند اگر اپنی بیویوں کا مناسب خیال نہیں رکھ رہے تو یہ بھی ایک قتل ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی ایک بڑی اچھی مثال دی ہے۔فرمایا کہ حمل کے دوران اگر عورت کی خوراک کا خیال نہیں رکھا جارہا اور اولا د بھی کمزور ہو رہی ہے تو یہ بھی اولاد کا قتل ہے۔پھر اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ غربت کے خوف سے فیملی پلاننگ کرنا، یا بچوں کی پیدائش کو روکنا۔بچوں کی پیدائش کو صرف ماں کی صحت کی وجہ سے روکنا جائز ہے۔یا بعض دفعہ ڈاکٹر بچے کی حالت کی وجہ سے یہ مشورہ دیتے ہیں اور مجبور کرتے ہیں اور بچہ ضائع کرنے کو کہتے ہیں کیونکہ ماں کی صحت داؤ پر لگ جاتی ہے۔اس لئے بچے کو ضائع کرانا اُس صورت میں جائز ہے لیکن غربت کی وجہ سے نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَايَّاكُمْ ( بنی اسرائیل : 32) ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور اُن کو بھی۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطاً كَبِيراً ( بنی اسرائیل :32 ) کہ یقتل بہت بڑا جرم ہے۔پس سچے مسلمان جو ہیں، پکے مسلمان جو ہیں وہ کبھی ایسی حرکتیں نہیں کرتے۔کبیرہ گناہ کی بات نہیں بلکہ وہ چھوٹے گنا ہوں سے بھی بچتے ہیں۔پس ہمیں اس طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہئے کہ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف خاص توجہ دیں۔اُن کو وقت دیں۔اُن کی پڑھائی کی طرف توجہ دیں۔اُن کو جماعت کے ساتھ جوڑنے کی طرف توجہ دیں۔اپنے گھروں میں ایسے ماحول پیدا کریں کہ بچوں کی نیک تربیت ہو رہی ہو۔بچے معاشرے کا ایک اچھا حصہ بن کر ملک وقوم کی ترقی میں حصہ لینے والے بن سکیں۔اُن کی بہترین پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری بہر حال والدین پر ہے۔پس والدین کو اپنی ترجیحات کے بجائے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔باپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بچوں کی تربیت کا کام صرف عورتوں کا ہے اور نہ مائیں صرف باپوں پر یہ ذمہ داری ڈال سکتی ہیں۔یہ دونوں کا کام