خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 422 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 422

خطبات مسرور جلد 11 422 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2013ء سکھاتا ہے۔یہ وہ اعلیٰ معیار ہے جو ایک مسلمان کا اپنے والدین کے لئے ہونا چاہئے۔یہ دعا صرف زندگی کی دعا نہیں ہے بلکہ والدین کی وفات کے بعد بھی اُن کے درجات کی بلندی کے لئے دعا ہوسکتی ہے۔یعنی ایک تو زندگی میں دعا ہے کہ جو ہماری طرف سے کمی رہ گئی ہے اُس کمی کو اس دعا کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ پورا فرمائے اور اپنے خاص رحم میں رکھے۔دوسرے اس رحم کا سلسلہ اگلے جہان تک بھی جاری رہے اور اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرماتار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” خدا نے یہ چاہا ہے کہ کسی دوسرے کی بندگی نہ کرو۔اور والدین سے احسان کرو اللہ تعالیٰ نے پہلے یہی فرمایا ناں کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور پھر اگلا حکم یہ کہ والدین سے احسان کرو۔فرمایا کہ حقیقت میں کیسی ربوبیت ہے کہ انسان بچہ ہوتا ہے اور کسی قسم کی طاقت نہیں رکھتا۔اس حالت میں ماں کیا کیا خدمات کرتی ہے اور والد اس حالت میں ماں کی مہمات کا کس طرح متکفل ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ناتواں مخلوق کی خبر گیری کے لئے دو محل پیدا کر دیئے ہیں اورا اپنی محبت کے انوار سے ایک پر تو محبت کا اُن میں ڈال دیا۔مگر یا درکھنا چاہیئے کہ ماں باپ کی محبت عارضی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت حقیقی ہے۔یہاں بہر حال ایک فرق ہے۔اور جب تک قلوب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا القاء نہ ہو تو کوئی فرد بشر خواہ وہ دوست ہو یا کوئی برابر کے درجہ کا ہو، یا کوئی حاکم ہو، کسی سے محبت نہیں کر سکتا۔اور یہ خدا کی کمال ربوبیت کا راز ہے کہ ماں باپ بچوں سے ایسی محبت کرتے ہیں کہ اُن کے تکفل میں ہر قسم کے دُکھ شرح صدر سے اُٹھاتے ہیں یہاں تک کہ اُن کی زندگی کے لئے مرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔“ 66 ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 315 مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ نے فرمایا:۔فَلَا تَقُل لَّهُمَا أَفٍ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (بنی اسرائیل : 24) یعنی اپنے والدین کو بیزاری کا کلمہ مت کہو اور ایسی باتیں اُن سے نہ کر جن میں اُن کی بزرگواری کا لحاظ نہ ہو۔اس آیت کے مخاطب تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن دراصل مرجع کلام امت کی طرف ہے۔“ (یعنی گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا گیا ہے لیکن اصل میں اُمت مخاطب ہے۔) '' کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد اور والدہ آپ کی خوردسالی میں ہی فوت ہو چکے تھے۔اور اس حکم میں ایک راز بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس آیت سے ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا