خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 418 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 418

خطبات مسرور جلد 11 418 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2013ء بھی کچھ کر سکتا ہوں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم کچھ نہیں کر سکتے ، ایک مومن کو ہر کام کرنے سے پہلے انشاء اللہ ضرور کہنا چاہئے فرمایا کہ ”موٹے شرک میں تو آج کل اس روشنی اور عقل کے زمانہ میں کوئی گرفتار نہیں ہوتا۔“ یعنی درختوں کی پوجا کریں یا بعض ایسے ہوں جو پہلی قسم کا شرک کرتے ہوں البتہ اس مادی ترقی کے زمانہ میں شرک فی الاسباب بہت بڑھ گیا ہے۔اسباب پر انحصار، چیزوں پر انحصار، لوگوں پر انحصار بہت زیادہ ہو گیا ہے۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 215-216 مطبوعہ ربوہ ) اسباب میں جیسا کہ میں نے کہا لوگوں پر بھی انحصار ہے، دولت پر اور سامان پر انحصار ہے، جہاں اپنے کام کر رہے ہیں اُن کے مالکوں پر انحصار ہے، بعض افسروں کی خوشامد کر رہے ہوتے ہیں۔جب یہ حالت ہو جائے کہ اسباب پر یا کسی ذات پر ضرورت سے زیادہ انحصار ہو جائے تو پھر انسان اس مقصد کو بھول جاتا ہے جو اُس کی پیدائش کا مقصد ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جب انتہا درجہ تک کسی کا وجود ضروری سمجھا جائے تو وہ معبود ہو جاتا ہے۔جب ایک شخص سمجھے کہ اس کے بغیر میرا گزارہ ہی نہیں ہے تو پھر وہ خدا کے مقابلے پر آ جاتا ہے۔پھر ایسی چیز بن جاتا ہے جس کی عبادت کی جاتی ہے۔اُس کے ساتھ تعلق بھی عبادت بن جاتا ہے۔اور عبادت کے لائق صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : 57) یعنی جنوں اور انسان کی پیدائش کی غرض عبادت ہے۔اور عبادت کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں : یعنی اے لوگو! تم اُس خدا کی پرستش کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔یعنی اُسی کو اپنے کاموں کا کارساز سمجھو۔جتنے بھی تمہارے کام ہیں اُن کو کرنے والا ، اُن کی تکمیل کرنے والا ، اُن کو انتہا تک پہنچانے والا، کامیابی دینے والاصرف خدا تعالیٰ ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی پرستش اور عبادت ہے۔اور اُس پر توکل رکھو۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 340) پھر فرمایا یعنی اے لوگو! اس خدا کی پرستش کرو جس نے تم کو پیدا کیا۔عبادت کے لائق وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔یعنی زندہ رہنے والا وہی ہے اس سے دل لگاؤ۔“ باقی خدا جو ہیں، باقی جو دنیا کے معبود ہیں، اُنہوں نے ختم ہو جانا ہے۔زندہ رہنے والی ذات صرف خدا تعالیٰ کی ہے اس لئے اُسی سے دل لگاؤ۔فرماتے ہیں کہ ” پس ایمانداری تو یہی ہے کہ خدا سے خاص تعلق رکھا جائے اور دوسری سب چیزوں کو اس کے مقابلہ میں بیچ سمجھا جائے۔اور جو شخص اولاد کو یا والدین کو یا کسی اور چیز کو ایسا عزیز رکھے کہ ہر وقت