خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 416 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 416

خطبات مسرور جلد 11 416 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2013ء پس یہ رمضان جہاں ہمیں مجاہدات کی طرف توجہ دلاتا ہے، ( بہت سارے مجاہدات ہیں جو ظاہری طور پر ہم کرتے ہیں جیسے کھانے پینے سے اپنے آپ کو روکنا ہے اور بعض جائز کاموں سے روکنا ہے ) وہاں اس بات کی بھی کوشش کرنی چاہئے کہ ان دنوں میں جب ہم قرآن کریم کو سمجھنے کی طرف ایک خاص توجہ دے رہے ہیں تو پھر ان احکامات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا ئیں تاکہ وہ سرسبز شاخیں بن جائیں جن کا آسمان سے تعلق ہوتا ہے، جن کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہوتا ہے، جن کی دعائیں خدا تعالیٰ سنتا ہے۔اپنے ایمان کی جڑیں مضبوط کریں۔اپنے اعمال کو وہ سرسبز شاخیں بنائیں جو آسمان تک پہنچتی ہیں تا کہ ہماری دعائیں بھی خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوتی چلی جائیں۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں، ان دو تین آیات میں بھی اُن احکامات میں سے چند احکامات بیان ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے چند باتوں کی طرف، چند احکامات کی طرف توجہ دلائی ہے جو خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والے ہیں، تقویٰ پر چلانے والے ہیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں۔جیسا کہ میں نے ترجمہ میں پڑھ کر سنا دیا تھا ہر ایک پر واضح ہو گیا ہوگا کہ کیا احکامات ہیں۔یاددہانی کیلئے دوبارہ بتا دیتا ہوں۔فرمایا کہ سب سے پہلے تو یہ بات یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔پھر فرما یا والدین سے حسن سلوک کرنا انتہائی اہم چیز ہے اس کو کبھی نہ بھولو اور بدسلو کی تم پر حرام ہے۔تیسری بات یہ کہ رزق کی تنگی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔پھر یہ کہ مخفی اور ظاہر ہر قسم کی بے حیائیوں سے بچو، بلکہ اُن کے قریب بھی نہیں جانا۔پانچویں بات یہ کہ کسی جان کو قتل نہ کرو، سوائے اس کے کہ جسے اللہ نے جائز قرار دے دیا ہو۔اور اُس کی بھی آگے تفصیلات ہیں کہ کیا، کس طرح جائز ہے۔پھر فرمایا کہ یتیموں کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ۔ساتویں بات یہ کہ جب یہ لوگ بلوغت کو پہنچ جائیں تو پھر اُن کے مال اُنہیں کوٹا دو۔پھر کوئی بہانے نہ ہوں۔آٹھویں بات یہ کہ ماپ تول میں انصاف کرو۔پھر یہ کہ ہر حالت میں عدل سے کام لو۔کوئی عزیز داری ، کوئی قرابت داری تمہیں عدل سے نہ روکے، انصاف سے نہ روکے۔دسویں بات یہ کہ اپنے عہدوں کو پورا کرو۔جو عہد تم نے کئے ہیں اُن کو پورا کرو۔اور پھر یہ کہ ہر حالت میں صراط مستقیم پر قائم رہنے کی کوشش کرتے چلے جاؤ۔تو یہ وہ خاص اہم باتیں ہیں اور پھر ان کی جزئیات ہیں۔ان باتوں پر چل کر انسان تقویٰ کی راہوں پر چلنے والا کہلا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنے والا کہلا سکتا ہے۔