خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 415
خطبات مسرور جلد 11 415 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2013ء عمل کرنے کی طرف توجہ ہو تو عملی طور پر بھی ایک نمایاں تبدیلی انسان میں پیدا ہو جاتی ہے۔اعلیٰ اخلاقی قدریں پیدا ہو جاتی ہیں۔فرمایا کہ وحشیانہ حالت سے نکل کر ایسا شخص جس نے قرآنی تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کیا ہو، مہذب اور باخدا انسان بنتا ہے اور باخدا انسان وہ ہوتا ہے جس کا خدا تعالیٰ سے ایک خاص اور سچا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، جس کی مثال اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں شجرہ طیبہ کی دی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے که أَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (ابراہیم : 25) کہ اُس کی جڑیں مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتی ہیں اور اُس کی شاخیں آسمان کی بلندی تک پہنچ رہی ہوتی ہیں۔اس کی وضاحت ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں فرمائی ہے۔فرمایا کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے کھول دیا کہ وہ ایمان جو ہے وہ بطور تخم اور شجر کے ہے اور اعمال جو ہیں وہ آبپاشی کے بجائے ہیں۔یعنی آب پاشی کی جگہ ہیں، اعمال ایسے ہیں جس طرح کہ پودے کو پانی دیا جائے۔فرمایا: قرآن شریف میں کسان کی مثال ہے کہ جیسا وہ زمین میں تخم ریزی کرتا ہے، ویسا ہی یہ ایمان کی تخم ریزی ہے۔وہاں آبپاشی ہے، یہاں اعمال۔فرمایا: پس یا درکھنا چاہئے کہ ایمان بغیر اعمال کے ایسا ہے جیسے کوئی باغ بغیر انہار کے۔یعنی اُس میں پانی اور نہریں نہ ہوں، دریا نہ ہو۔فرمایا : جو درخت لگایا جاتا ہے اگر مالک اُس کی آبپاشی کی طرف توجہ نہ کرے تو ایک دن خشک ہو جائے گا۔اس طرح ایمان کا حال ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا (العنكبوت : 70) یعنی تم ہلکے کام پر نہ رہو بلکہ اس راہ میں بڑے بڑے مجاہدات کی ضرورت ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 649 مطبوعہ ربوہ ) اس لئے آپ نے شروع میں فرمایا کہ قرآن شریف جو تمہیں بنانا چاہتا ہے، وہ تم اُس وقت بن سکتے ہو جب شرعی حدود جو لگائی ہیں، قرآنِ کریم نے جو احکامات دیئے ہیں، اُن کو مرحلہ وار اپنے او پر لاگو کرو۔اور اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ آرام سے نہیں ہو جاتا ہے، اس کے لئے مجاہدات کی ضرورت ہے۔پس جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کر آیا ہوں، رمضان شریف کا مہینہ یا قرآنِ کریم کا اس مہینے میں نزول کا اس صورت میں ہمیں فائدہ ہو سکتا ہے یا ہمیں فائدہ دے گا جب ہم اس کے احکامات کو اپنے اعمال کا حصہ بنائیں گے۔اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں گے۔اس راستے میں مجاہدہ کریں گے۔اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر بھی ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے تبھی ہم خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر سکتے ہیں تبھی ہم قرآنِ کریم کے نازل ہونے کے مقصد کو سمجھنے والے ہو سکتے ہیں۔