خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 414
خطبات مسرور جلد 11 414 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جولائی 2013ء بات کرو تو عدل سے کام لو خواہ کوئی قریبی ہی کیوں نہ ہو۔اور اللہ کے ساتھ کئے گئے عہد کو پورا کرو۔یہ وہ امر ہے جس کی وہ تمہیں سخت تاکید کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔اور یہ بھی تاکید کرتا ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے۔پس اس کی پیروی کرو اور مختلف راہوں کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اس کے راستہ سے ہٹا دیں گی۔یہ ہے وہ جس کی وہ تمہیں تا کیدی نصیحت کرتا ہے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔گزشتہ خطبہ میں اس بات کا ذکر ہوا تھا کہ رمضان کے مہینے میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا۔اس لحاظ سے قرآن کریم کا اور رمضان کے مہینے کا ایک خاص تعلق ہے، لیکن اس تعلق کا فائدہ تبھی ہے جب ہم رمضان کے مہینے میں قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ اس کے احکامات پر غور کریں اور ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی کوشش کریں۔ورنہ جس مقصد کے لئے قرآن کریم نازل ہوا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : قرآن کا مقصد تھا وحشیانہ حالت سے انسان بنانا۔انسانی آداب سے مہذب انسان بنانا تا شرعی حدود اور احکام کے ساتھ مرحلہ طے ہوا اور پھر با خدا انسان بنانا۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 53 مطبوعہ ربوہ) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ قرآن کریم میں عملی اور علمی تکمیل کی ہدایت ہے۔چنانچہ اهْدِنَا الخراط (الفاتحہ : 6) میں تکمیل علمی کی طرف اشارہ ہے اور تکمیل عملی کا بیان صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحہ: 7) میں فرمایا کہ جونتائج اکمل اور اتم ہیں وہ حاصل ہو جائیں۔جیسے ایک پودا جو لگایا گیا ہے جب تک پورانشوونما حاصل نہ کرے اس کو پھل پھول نہیں لگ سکتے۔اسی طرح اگر کسی ہدایت کے اعلیٰ اور اکمل نتائج موجود نہیں ہیں۔وہ ہدایت مردہ ہدایت ہے۔جس کے اندر کوئی نشوونما کی قوت اور طاقت نہیں ہے۔فرمایا کہ ” قرآن شریف ایک ایسی ہدایت ہے کہ اُس پر عمل کرنے والا اعلیٰ درجہ کے کمالات حاصل کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے اس کا ایک سچا تعلق پیدا ہونے لگتا ہے۔یہاں تک کہ اُس کے اعمالِ صالحہ جو قرآنی ہدایتوں کے موافق کیے جاتے ہیں وہ ایک فجر طیب کی مثال جو قرآن شریف میں دی گئی ہے، بڑھتے ہیں اور پھل پھول لاتے ہیں۔ایک خاص قسم کی حلاوت اور ذائقہ اُن میں پیدا ہوتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 121-122 مطبوعہ ربوہ ) پس اگر قرآن کریم کا حق ادا کرتے ہوئے قرآن کریم کو پڑھا جائے اور پھر اُس کے احکامات پر