خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 376
خطبات مسرور جلد 11 376 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 جولائی 2013ء ایسا لگتا ہے کہ یہ باہر سے آنے والے مہمان نہیں ہیں بلکہ ہماری جماعت کے ہی ممبر ہیں۔ایک خاتون اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ مجھے آپ کے امام کو دیکھ کر اور اُن کا خطاب سن کر بہت خوشی محسوس ہوئی، عیسائیت کے بارے میں نہایت کشادہ دلی رکھتے ہیں اور Love for all, Hatred for none کا نعرہ ہم نے بہت بار سنا ہے۔اور پھر یہ کہتی ہیں کہ بہت ساری باتیں ایسی ہیں جو ہمیں جوڑتی ہیں نہ کہ جدا کرتی ہیں۔مذاہب کے بارے میں انسان کے لئے غور کرنا لازمی ہے کہ معلوم ہو جائے کہ ایک دوسرے میں اتنا فرق اور اختلاف موجود نہیں ہے۔ایک دوست نے اظہار کیا کہ جو پیغام خلیفہ نے پہلے دیا تھا وہ یہ تھا کہ اسلام رواداری کا مذہب ہے اور یہ ایک نہایت ضروری پیغام ہے جس کی آپ کے امام جماعت بار بار وضاحت فرما رہے ہیں (یہ پہلے بھی شامل ہو چکے ہیں فنکشن میں )۔پھر ایک دوست نے کہا کہ مجھے بہت اچھا محسوس ہوا ہے کہ یہاں محبت اور پیار کا لفظ بار بار استعمال کیا گیا ہے۔میں خود تو فعال پروٹسٹنٹ عیسائی ہوں اور ہمارے لئے بھی جدید عہد ناموں میں لفظ محبت نہایت اہم ہے لیکن مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے اس لفظ کو چرچ میں اتنی بار سنا ہو۔اس بات نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔مجھے جماعت احمدیہ کے بارے میں اتنا علم تو نہیں تھا لیکن جو محبت مجھے یہاں ملی ہے یہ ہر جگہ نہیں ملتی۔وہ کہتے ہیں کہ یہ تو سب کو معلوم ہے اور مجھے اس کو چھپانے کی ضرورت بھی نہیں کہ اسلام کے بارے میں جرمنی میں لوگوں کو بہت سے تعصبات ہیں اور میڈیا کی وجہ سے غلط تصویر دکھائی جاتی ہے۔اکثر مسلمانوں کو ذاتی طور پر جانتے ہی نہیں۔میرا خیال ہے کہ ہر اس جگہ پر جہاں ذاتی تعلق قائم ہوجائیں وہاں معلوم ہو جاتا ہے کہ اصل بات کیا ہے؟ اسی طرح ٹی وی اور اخباری نمائندوں نے بھی میرے انٹرویو لئے جس میں اسلام کی حقیقی تعلیم اور اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی ضرورت اور مساجد میں کردار کے بارے میں سوال کئے گئے۔اور اس طرح تقریباً مجموعی طور پر تیں اخبارات ، تین ریڈیو سٹیشنز اور پانچ ٹی وی چینلز نے ہمارے ان فنکشنز کو کوریج دی۔جرمنی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیشنل ٹی وی پر جماعت کے متعلق خبر نشر کی گئی۔جرمنی کے دوسرے چینلز زیڈ ایف (ZF)، زیڈ ٹی ایف (ZTF) نے فلڈا کی مسجد کی سنگ بنیاد کی تقریب کے متعلق 27 جون کو تقریباً تین منٹ کی خبر نشر کی اور اُس میں مجھے مسجد کی بنیا د ر کھتے ہوئے بھی دکھایا گیا اور جماعت احمدیہ کا تعارف کروایا گیا۔