خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 375 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 375

خطبات مسرور جلد 11 375 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 جولائی 2013ء کے پادری یا اُن کے نمائندے، پولیس کمشنر اور اسی طرح سیکرٹری کونسل کے نمائندے وغیرہ شامل ہوئے۔اسی طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے جو مختلف احباب ہیں، وہ شامل ہوئے۔بیت الحمید مسجد جو ہے اس میں وہاں کے فرسٹ کونسلر آف سٹی نے اپنے ایڈریس میں کہا کہ جماعت احمد یہ فلڈا شہر کے ماضی کا بھی حصہ ہے، کئی دہائیوں سے یہاں اس جگہ پر مقیم ہے۔میں آپ لوگوں کے معاشرے کی مثبت سرگرمیوں سے بخوبی واقف ہوں۔پھر آپ کا مسجد بنانا اس بات کی نشانی ہے کہ آپ اس شہر کے معاملات میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔پھر انہوں نے کہا کہ ہماری زبان میں کہاوت ہے کہ باتوں کے بجائے اعمال کے ذریعہ انسان کا اندازہ لگایا کرو۔اور آپ کی طرف سے اچھی باتیں ہی نہیں بلکہ ہم نے دیکھا ہے کہ آپ کے اعمال بھی بہت اچھے ہیں اور نمایاں ہیں۔اور یہ فیصلہ کن بات ہے کہ جماعت اس ملک کے قوانین کو نہ صرف مانتی ہے بلکہ ان کی پابندی بھی کرتی ہے اور اس لئے ہمیں ہر لحاظ سے رواداری کا اظہار کرنا چاہئے۔اسی طرح ایک لوکل مہمان نے تبصرہ کیا۔اکیاسی (81) سال ان کی عمر ہے اور انہوں نے وہاں میرا ایڈریس بھی سنا۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ آپ کے خلیفہ نے جو باتیں بیان کی ہیں یعنی اسلام کی ترقی کی باتیں، اپنی زندگی میں تو شاید نہ دیکھ سکوں لیکن تم دیکھو گے کہ آپ کے بانی جماعت جن کے متعلق میں نے انٹرنیٹ پر پڑھا ہے، ان کے پیغام کو دنیا قبول کرے گی اور حقیقی اسلام ان کے ذریعہ سے پھیلے گا۔پھر وہ اگلے دن دوبارہ تشریف لے آئے اور کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں آپ کے مذہب کی سچائی کو پا لیا ہے۔مجھے نماز سکھاؤ تا کہ میں دعا کرسکوں۔پھر اس پروگرام کے آخر پر ضلع کونسل کے صدر وہاں کے مقامی صدر جماعت کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ آپ کے امام ہماری ضلعی کونسل کے ہیڈ آفس آئیں۔ہم نے خطاب سنا ہے اور بہت سے سیاستدانوں نے اس خطاب کو ایک روشن خطاب قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ آپ کے امام جماعت کے اس خطاب نے ہماری عقلوں کو جلا بخشی ہے اور ہمارے دل پر اثر کیا ہے۔وہاں کے صدر صاحب کہتے ہیں کہ اس کے بعد سے لوگ مسلسل مسجد دیکھنے کے لئے آ رہے ہیں۔ہمیشہ جہاں مسجد میں تعمیر ہوتی ہیں وہاں تبلیغ کے نئے راستے کھلتے ہیں اور تعارف بڑھتا ہے۔تو وہ کہتے ہیں کہ ابھی تک ( دو دن کے بعد انہوں نے رپورٹ دی تھی کہ ) پانچ سو سے زائد افراد آ چکے ہیں اور بہت ساروں نے اسلام کی تعلیم جاننے سے متعلق بہت دلچسپی دکھائی ہے۔بلکہ یہ کہتے ہیں کہ بعض افراد کو دیکھ کر تو