خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 373
خطبات مسرور جلد 11 373 27 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 جولائی 2013ء خطبہ جعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة اسم الخامس ایدہ اللہ تعالی بصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 5 جولائی 2013 ء بمطابق 5 وفا 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک شعر ہے کہ کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا شکر ادا کرنا ممکن نہیں۔ہر سفر جو میں کرتا ہوں اپنے رنگ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کو لئے ہوئے ہوتا ہے۔گزشتہ دنوں جلسہ سالانہ جرمنی ہوا اور میں نے وہاں شمولیت کی۔وہاں جلسہ کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے ایسے نظارے دیکھے کہ اس بات پر یقین مزید پختہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدے ہر روز نئی شان سے پورے فرماتا ہے۔امیر صاحب جرمنی مجھے کہنے لگے کہ جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں ، میری اور میرے ساتھیوں کی سوچ سے بھی بالا ہے۔جرمنی میں جرمن لوگوں اور جرمن پریس میں اس دفعہ اتنی دلچسپی ظاہر ہوئی ہے کہ جو پہلے نہیں ہوتی تھی۔مسجدوں کے سنگ بنیاد کے تقاریب ہوئیں۔مسجدوں کے افتتاح کی تقاریب ہوئیں۔پہلے سے بڑھ کر مقامی لوگوں کی دلچسپی نظر آئی۔انتظامیہ کی بھی دلچسپی نظر آئی، پڑھے لکھے لوگوں کی دلچسپی نظر آئی، بلکہ چر چوں کے پادریوں کی بھی دلچسپی نظر آئی۔جلسہ سالا نہ ہوا تو اُس میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے پہلے سے بڑھ کر دیکھے۔بہر حال انسانی سوچ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا احاطہ نہیں کر سکتی۔کم از کم جو کچھ وہاں ہوا، اُس سے پہلے گو جماعت جرمنی کی بہت اچھی تو قعات تھیں کہ اس دفعہ انتظامات بہتر ہوں گے، لوگوں کی رسپانس اچھی ہوگی ، لیکن یہ خیال بھی نہیں تھا کہ اتنے وسیع طور پر انتظامات سے