خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 371
خطبات مسر در جلد 11 371 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 جون 2013ء پھر آپ نے اپنی اس تحریر میں جو میں نے شروع میں پڑھی ہے،انکسار اور عاجزی کی طرف بھی خاص طور پر توجہ دلائی ہے۔یہ بھی وہ عمل ہے جو آپس کی محبت بڑھاتا ہے۔جو ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتا ہے اور غیروں کی توجہ بھی کھینچتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے بندوں کی یہ نشانی بتائی ہے کہ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا۔(الفرقان: 64 ) کہ وہ زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں۔پس یہ عاجزی انسان میں وہ روح پیدا کرتی ہے جو بندے کو خدا تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور معاشرے کی خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔آپس کے تعلقات کی خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔آپس کی رنجشوں کو بھی دور کرتی ہے۔اور محبت بھی بڑھاتی ہے۔پھر آپ نے راستبازی اور سچائی کی طرف خاص توجہ دلائی ہے۔کہ تقویٰ پر چلنے والا تمام نیکیاں بجالانے والا ہی ہوتا ہے، تقویٰ کی تعریف ہی یہی ہے اور جو تقویٰ کی حقیقت جان لے گویا کہ اُس نے ہر چیز کو پالیا۔لیکن بعض جزئیات پر زور دینا بھی ضروری ہوتا ہے اور بعض عمل تقویٰ کے معیار کو بڑھاتے ہیں۔اس لئے راستبازی اور قول سدید پر اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر زوردیا ہے۔فرمایا کہ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا۔( الاحزاب : 71) اے مومنو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ایسی بات کرو جو صاف اور سیدھی ہو۔اس آیت کی وضاحت میں دو تین ہفتے قبل میں نے خطبہ میں تفصیل سے بیان کیا تھا۔بہر حال یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کا خاص طور پر اُن لوگوں کے لئے ذکر فرمایا ہے کہ جو لوگ اپنی روحانی ترقی کے لئے جلسہ پر آتے ہیں کہ اپنے تقویٰ کے معیار بلند کریں، اپنی اصلاح کریں۔اگر یہ ہو گا تو تبھی آپ جلسے پر آنے کا حق ادا کرنے والے ہوں گے اور اس کے لئے راستبازی، سچائی اور صاف گوئی کے وصف کو اپنا ئیں۔یہ بہت ضروری ہے۔یہ ایک بنیادی عنصر ہے۔پس اپنی سچائیوں کے معیاروں کو بلند کرو تا کہ جس مقصد کے لئے تم جمع ہوئے ہو اُس کو حاصل کر سکو۔اور جب ہر احمدی کے راستبازی کے معیار بلند ہوں گے تو بات میں بھی اثر ہوگا اور جب باتوں میں اثر ہوگا تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقصد اور مشن کو آگے بڑھانے والوں میں شامل ہو سکیں گے۔اور جو مشن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لے کر آئے۔وہ دوا ہم کام ہیں۔ایک تو بندے کو خدا کی پہچان کروا کر خدا تعالیٰ سے ملانا ، اور دوسرے بنی نوع انسان کے حقوق کی ادائیگی کرنا۔اور یہ دونوں کام ایسے ہیں جو ہمارے سے تقویٰ اور قربانی کا مطالبہ کرتے ہیں، جو ہماری عملی حالتوں میں پاک تبدیلیاں