خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 366
خطبات مسرور جلد 11 366 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 جون 2013ء لوگوں کی نسبت خدا تعالیٰ سے زیادہ ڈرتا ہوں اور اپنی خواہشات کو خدا تعالیٰ کی مرضی کے تابع رکھتا ہوں۔(صحیح بخاری کتاب النکاح باب الترغيب في النكاح حديث نمبر 5063) پس اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی زہد یہ ہے کہ صرف دنیاوی خواہشات اور ان کی تسکین صح نظر نہ ہو بلکہ جو اُن میں سے بہترین ہے وہ لو اور اعتدال کے اندر رہتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو سامنے رکھتے ہوئے ان دنیاوی چیزوں سے فائدہ اُٹھاؤ گے تو یہ زہد ہے۔اگر یہاں آ کر ان مغربی ممالک کی آزادی کی وجہ سے یہاں کی ہر چیز میں خواہشات کی تسکین کالا لے تمہیں اپنی طرف کھینچ رہا ہے تو پھر تمہارا جلسوں پر آنا بے فائدہ ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنا بھی بے فائدہ ہے۔پس فرمایا اپنے اندر زہد پیدا کرو کیونکہ یہ پیدا کرو گے تو تقویٰ کی حقیقی روح کی بھی پہچان ہوگی۔تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ یہی ہے کہ ہر وقت یہ خوف دل میں رکھنا کہ میرے سے کوئی ایسا کام سرزد نہ ہو جائے جس سے خدا تعالیٰ مجھ سے ناراض ہو جائے۔خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا خوف سزا کے ڈر سے نہ ہو بلکہ اس طرح ہو جس طرح ایک بہت قریبی دوست کی یا قریبی عزیز کی ناراضگی کا خوف ہوتا ہے۔اور یہ بھی ہوسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی محبت سب محبتوں پر حاوی ہو جائے اور ایسی محبت کی حالت بھی اُس وقت طاری ہو سکتی ہے جب خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق ہو اور اس کا عرفان ہو۔جب محور خدا تعالیٰ کی ذات ہو۔پس یہ وہ معیار ہے جسے ہم میں سے ہر ایک کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس معیار تقویٰ کو ہم میں پیدا کرنے کے لئے بارہا مختلف رنگ میں ہمیں نصائح فرمائی ہیں۔آپ اپنے ایک خطاب میں فرماتے ہیں کہ ”اپنی جماعت کی خیر خواہی کے لئے زیادہ ضروری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ تقویٰ کی بابت نصیحت کی جاوے کیونکہ یہ بات عظمند کے نزدیک ظاہر ہے کہ بجزر تقویٰ کے اور کسی بات سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ (انحل: 129) ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 7۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پس جب جماعت کے افراد کو بار بار اس بات کی نصیحت کی جاتی ہے تو یہ اس وجہ سے ہے کہ زمانے کے مامور کی بیعت میں آکر جب ہم یہ دعویٰ اور اعلان کرتے ہیں کہ ہم وہ لوگ ہیں جن سے اس بیعت کی وجہ سے خدا راضی ہوا ہے یا ہم نے اس لئے بیعت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کریں، اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے کی کوشش کریں۔اگر اس پر عمل نہیں تو یہ دعوی محض دعویٰ ہوگا۔اگر ہمارے قدم تقویٰ کی طرف نہیں بڑھ رہے تو یہ صرف دعوی ہے۔