خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 365
خطبات مسرور جلد 11 365 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 جون 2013ء پس جیسا کہ میں نے کہا ، اب میں اس وقت جلسہ کے مقاصد اور اس کی غرض و غایت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کی روشنی میں ہی کچھ کہوں گا۔جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ جلسہ پر آنے والوں کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔ایک احمدی کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔لیکن اس سے پہلے کہ میں شروع کروں انتظامیہ مجھے رپورٹ دے کہ آخر تک آواز صیح جارہی ہے؟ یا آخر میں جو بیٹھے ہوئے ہیں کوئی ہاتھ کھڑا کر کے بتادیں کہ آواز ٹھیک ہے؟ اچھا ٹھیک ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں اور اُن کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زُہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راستبازی اُن میں پیدا ہو اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں۔“ (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحه 394) ان چند فقرات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک حقیقی احمدی کے لئے زندگی کا پورا لائحہ عمل بیان فرما دیا ہے۔فرمایا کہ جلسہ میں شامل ہونے والوں میں ایسی تبدیلی ہو کہ وہ زہد میں ایک نمونہ ہوں۔انسان اگر غور کرے تو اس ایک لفظ میں ہی اتنی بڑی نصیحت ہے کہ برائیوں کی جڑ کٹ جاتی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اپنے آپ کو دنیاوی تسکین کے سامان سے روکنا ، دنیاوی خواہشات سے روکنا، اپنے جذبات کو، غلط جذبات کو ابھرنے سے روکنا۔اس طرح روکنا کہ تمام دروازے ان خواہشات کے بند ہوجائیں تا کہ خواہش پیدا ہی نہ ہو۔اب اگر دیکھا جائے تو دنیا میں جو خدا تعالیٰ نے چیزیں پیدا کی ہیں ان سے انسان مکمل طور پر قطع تعلق تو نہیں کر سکتا۔تو اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس طرح روک لو کہ دنیا سے کٹ جاؤ۔زُہد یہ ہے کہ دنیا کی ان چیزوں کی جو نا جائز خواہشات ہیں، اُن سے اپنے آپ کو روک لو۔اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کی تحدیث کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ان سے فائدہ نہ اُٹھانا بھی خدا تعالیٰ کی ناشکری ہے۔روایات میں آتا ہے کہ بعض صحابہ نے یہ عہد کیا کہ ہم روزے ہی رکھتے رہیں گے۔روزانہ روزے رکھیں گے۔شادی نہیں کریں گے۔عورت کے قریب نہیں جائیں گے۔ساری ساری رات نماز میں ہی پڑھتے رہیں گے۔جب آپ کے علم میں یہ بات آئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں روزے بھی رکھتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں، نمازیں بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔دوسرے دنیاوی کام اور گھر کے کام کاج بھی کر لیتا ہوں۔عورتوں سے نکاح بھی کیا ہے۔پس جو شخص مجھ سے منہ موڑے گا، وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔فرمایا کہ یا درکھو کہ میں تم