خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 364
خطبات مسرور جلد 11 364 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 جون 2013ء مطابقت نہیں رکھتا لیکن کیونکہ جلسہ کی نیت سے اکثر لوگ آئے ہوتے ہیں، بلکہ جلسہ میں شامل ہی جلسے کی نیت سے ہوتے ہیں، اس لئے اپنے اپنے وقتوں کے مطابق جہاں بھی ہوں، خطبہ یا تقریریں سن لیتے ہیں۔یعنی عام حالات کی نسبت زیادہ بڑی تعداد یہ سن لیتی ہے۔آج کے خطبہ میں میں جلسہ سالانہ کے حوالے سے جلسہ کے مقاصد کے بارے میں یاددہانی کروانا چاہتا ہوں۔یعنی وہ مقاصد جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسے کے بیان فرمائے ہیں۔یاد دہانی کی ضرورت رہتی ہے تا کہ جلسے کے دنوں میں خاص توجہ رہے اور بعد میں بھی ان باتوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت کے مطابق ان کا اظہار ہر احمدی کے عمل سے ہوتا رہے۔اس بات کا انحصار بھی انسان کی اپنی توجہ پر ہے کہ کتنی دیر توجہ قائم رہتی ہے۔آجکل کیونکہ دنیا کے دوسرے کاموں اور بکھیڑوں میں بھی انسان پڑا ہوا ہے اس لئے اکثر دنیا داری غالب آ جاتی ہے جس سے فرائض اور نوافل کی ادائیگی میں سستی پیدا ہو جاتی ہے۔جلسوں میں شامل ہونے کے بعد بعض احمدی مجھے لکھتے ہیں کہ جلسے کے تین دنوں میں ہماری کایا پلٹ گئی ہے۔یہ تین دن تو یوں گزرے جیسے ہم کسی اور ہی دنیا میں تھے۔ایک خاص روحانی ماحول تھا۔دعا کریں کہ بعد میں بھی یہ حالت قائم رہے۔تو بہر حال یہ حالت ہے جو جلسے کے دنوں میں غالب ہوتی ہے اور اس کا اثر ہر شامل ہونے والے پر ہوتا ہے۔اور ہر ایک کی ایمانی حالت کے مطابق یہ اثر رہتا ہے۔بعض تو جلسہ کے فوراً بعد یہ بھول جائیں گے اور بھول جاتے ہیں کہ جلسے کی تقریریں سننے کے دوران ہم نے اپنے آپ سے کیا کیا عہد کئے تھے۔اپنے خدا سے عہد کئے تھے کہ ان نیکیوں کو جاری رکھیں گے۔بعض چند دن اس اثر کو قائم رکھیں گے۔بعض چند ہفتے اور بہت سے ایسے بھی ہیں جو چند مہینے تک یہ اثر قائم رکھیں گے۔یہ حقائق ہیں جن سے ہم آنکھیں نہیں پھیر سکتے۔اور چند ایک ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر اس نیک ماحول کا اثر سالوں رہتا ہے۔پس اکثریت کیونکہ تھوڑا عرصہ اثر رکھتی ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے بار بار نصیحت کرنے کا بھی فرمایا ہے۔بار بار ایسے ماحول کے پیدا کرنے کا کہا ہے جو مومنوں کو نیکیوں کی طرف توجہ دلاتا رہے۔اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا رہے۔اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا رہے۔اُن کو اپنے عملوں کی خود نگرانی کرنے کی طرف توجہ دلاتا رہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسوں کا اجراء فرما کر ہم پر بہت بڑا احسان فرمایا ہے کہ جس سے ہمیں اپنی اصلاح کا اور روحانی غذا کے حصول کا ایک اجتماعی موقع مل جاتا ہے۔اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کی طرف توجہ پیدا ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔