خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 355 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 355

خطبات مسر در جلد 11 355 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جون 2013ء اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اور اقتباسات پیش کروں گا جو سچائی کے اظہار کے بارے میں ہیں کہ کس طرح ہونا چاہئے ، کیسے موقعوں پر ہونا چاہئے ، اس کی مختلف حالتیں کیا ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اصل بات یہ ہے کہ فراست اچھی چیز ہے۔انسان اندر ہی اندر سمجھ جاتا ہے کہ یہ سچا ہے، کسی کی بات کوئی کر رہا ہو، اگر فر است ہو تو سمجھ جاتا ہے۔فرمایا کہ: ”سچ میں ایک جرات اور دلیری ہوتی ہے۔جھوٹا انسان بزدل ہوتا ہے۔وہ جس کی زندگی نا پا کی اور گندے گناہوں سے ملوث ہے، وہ ہمیشہ خوفزدہ رہتا ہے اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔ایک صادق انسان کی طرح دلیری اور جرات سے اپنی صداقت کا اظہار نہیں کر سکتا اور اپنی پاکدامنی کا ثبوت نہیں دے سکتا۔دنیوی معاملات میں ہی غور کر کے دیکھ لو کہ کون ہے جس کو ذراسی بھی خدا نے خوش حیثیتی عطا کی ہو اور اُس کے حاسد نہ ہوں۔ہر خوش حیثیت کے حاسد ضرور ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی لگے رہتے ہیں۔یہی حال دینی امور کا ہے۔شیطان بھی اصلاح کا دشمن ہے۔پس انسان کو چاہئے کہ اپنا حساب صاف رکھے اور خدا سے معاملہ درست رکھے۔شیطان تو ساتھ لگا ہوا ہے، لیکن اگر انسان کے اندرسچائی ہے، اپنا معاملہ اللہ سے صاف ہے تو پھر کوئی فکر نہیں۔فرمایا کہ ” خدا کو راضی کرے، پھر کسی سے خوف نہ کھائے اور نہ کسی کی پروا کرے۔فرمایا کہ ایسے معاملات سے پر ہیز کرے جن سے خود ہی مور د عذاب ہو جاوے۔خود انسان غلطیوں میں پڑے تو تبھی عذاب آتا ہے، تبھی سزا ملتی ہے۔اگر انسان سچائی پر قائم رہے، نیکیوں پر قائم رہے، اعمالِ صالحہ بجالانے والا ہو، برائیوں سے بچنے والا ہو تو پھر یہ چیزیں نہیں آتیں۔لیکن یہ سب کچھ خود نہیں حاصل ہوتا۔فرمایا: ”مگر یہ سب کچھ بھی تائید غیبی اور توفیق الہی کے سوا نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کی تائید ہوگی، اللہ تعالیٰ توفیق دے گا تو تبھی ہوگا۔اور پھر اُس کے لئے وہی استغفار اور اللہ تعالیٰ کے لئے جھکنا ہے۔فرمایا کہ صرف انسانی کوشش کچھ بنا نہیں سکتی جب تک خدا کا فضل بھی شاملِ حال نہ ہو۔‘‘انسان بہت کچھ کرتا ہے کہ میں یہ کر دوں گا ، وہ کر دوں گا اور دینی معاملات میں تو بالکل ہی انسانی کوشش نہیں بنا سکتی۔اللہ کا فضل ہو تو دین کی خدمت کی بھی توفیق ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہوتی ہے۔پھر فرمایا: ”صرف انسانی کوشش کچھ بنا نہیں سکتی جب تک خدا کا فضل بھی شاملِ حال نہ ہو۔خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا - ( النساء: 29) انسان ناتواں ہے، غلطیوں سے پر ہے، مشکلات چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔پس دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نیکی کی توفیق عطا کرے اور تائیدات غیبی اور فضل کے فیضان ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 543۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) کا وارث بنادے۔“