خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 354

خطبات مسرور جلد 11 354 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جون 2013ء اُس کو اعمال کے اصلاح کی توفیق دیتا ہے۔اور یوں وہ اُن لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے جو اعمالِ صالحہ بجالانے والے ہیں۔اور پھر یہی نہیں کہ جو نیک اعمال اب سرزد ہورہے ہیں انہی کا اجر ہے، بلکہ تقویٰ پر چلنے والے سچائی پر قائم ہونے والے اپنے گزشتہ گناہوں سے بھی اللہ تعالیٰ کی بخشش کروالیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف تمہارے اعمال کی اصلاح نہیں ہوگی بلکہ یغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ۔تمہارے گزشتہ گناہوں کو بھی اللہ تعالیٰ بخش دے گا۔اور اگر اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے حکموں پر عمل کرتے رہے، تقویٰ پر قائم رہے، نیکیاں کرنے کی توفیق پاتے رہے، فتنہ و فساد سے بچے رہے، اُن تمام احکام پر عمل کرتے رہے جو اللہ تعالیٰ نے مومن کو حقیقی مومن بننے کے لئے دیئے ہیں، جن کے بارے میں ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تاکیداً اس طرح توجہ دلائی ہے کہ قرآنِ کریم کے سات سو حکموں پر عمل کرو گے تو حقیقی مومن کہلاؤ گے۔(ماخوذ از کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحه 26) اور حقیقی مومن بننے کے نتیجہ میں آئندہ یہ گناہ بھی پھر معاف ہو جائیں گے۔یہ نہیں کہ آئندہ گناہ انسان کرتا جائے اور خدا تعالیٰ معاف کرتا جائے گا، بلکہ نیک اعمال کی وجہ سے، اصلاح نفس کی وجہ سے گناہوں سے دُوری ہوتی چلی جائے گی۔استغفار کرنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے گناہوں کے خلاف انسان کو طاقت ملتی ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ يَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُم “ تو اس کا یہی مطلب ہے کہ گزشتہ گناہوں سے بخشش اور آئندہ گناہوں کے خلاف طاقت ملتی ہے جس سے پھر اعمالِ صالحہ کا ایک جاری اور مسلسل عمل جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ فوز عظیم ہے۔یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بن جائے۔پس فوز عظیم کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کی کامل اطاعت ضروری ہے۔اپنی زندگی کو اللہ اور رسول کے حکموں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔اس پر عمل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے طاقت مانگنا ضروری ہے۔اور یہ طاقت استغفار سے ملتی ہے۔جب یہ طاقت ملے گی تو پھر نیک اعمال بھی سرزد ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نیک اعمال کی طرف رہنمائی بھی فرماتا رہے گا۔اور پھر ایسے انسان کا اُن حقیقی مومنوں میں شمار ہو گا جو سچائی پر قائم رہنے والے اور سچائی کو پھیلانے والے ہوں گے۔اُن لوگوں میں شمار ہوگا جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے والے مومنین ہیں۔پس تقوی فوز عظیم تک لے جاتا ہے اور فوز عظیم حاصل کرنے والے متقی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مومنو! اپنی زندگی کا یہ مقصد بناؤ اگر حقیقی مومن بنتا ہے۔پس یہ چیزیں ہیں جو ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔