خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 30
خطبات مسرور جلد 11 30 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2013ء حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے 2001ء میں جو کچھ تبدیلیاں کی تھیں، اُس وقت بھی ان کو یہاں بلایا تھا اور مشورے لئے تھے اور یہ اس مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں بھی یہاں کافی دیر رہے ہیں۔آج کل برازیل مشن ہاؤس اور گوئٹے مالا مسجد اور ٹرینیڈاڈ مشن و مسجد کے پراجیکٹس پر کام کر رہے تھے اور بڑی وقف کی روح کے ساتھ کام کر رہے تھے۔گو یہ وقف تو نہیں تھے لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے مکمل طور پر اپنے آپ کو جماعتی کاموں کے لئے سپرد کیا ہوا تھا۔مسجد نور ماڈل ٹاؤن کی توسیع کے کام بھی ان کی نگرانی میں ہوئے جس میں 2010ء میں فائرنگ ہوئی تھی۔یہ غریب پرور اور بہادر اور جماعتی کاموں پر فوری لبیک کہنے والے تھے۔ان کے بارے میں ان کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ جماعت اور خلفاء کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرتے تھے اور اس کو سخت نا پسند کرتے تھے۔ان کے دن کا آغاز تہجد اور قرآن کی تلاوت سے ہوتا تھا اور اس میں بڑی لذت محسوس کرتے تھے۔اکثر رات کو جماعت کی کسی نہ کسی کتاب کا مطالعہ کر کے سوتے تھے۔اور ان کی اہلیہ نے تو بہت ساری اور باتیں بھی لکھی ہیں۔شیخ حارث صاحب جو ہمارے واقف زندگی ہیں اور ربوہ میں، احمدیہ انجنیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ہیں۔انہوں نے بھی ان کے بارے میں یہی لکھا کہ بڑی وفا کے ساتھ یہ کام کرتے رہے اور میں نے بھی ربوہ میں ان سے کچھ کام کروائے ہیں۔جب بلاؤ آجایا کرتے تھے۔حالانکہ اُس وقت ان کی سرکاری ملازمت تھی۔اور انہوں نے بڑی محنت سے ، تو جہ سے ہر کام کیا ہے۔اسی طرح برازیل کے مبلغ جو ہیں اُن کے ساتھ آجکل یہ کام کر رہے تھے ، انہوں نے بھی لکھا ہے کہ حیرت انگیز طور پر محنت اور وفا سے کام کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے بھی درجات بلند فرمائے اور ان کی نسل کو بھی خلافت سے، جماعت سے وابستہ رکھے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ یکم فروری 2013ء تا 7 فروری 2013 ءجلد 20 شماره 5 صفحه 5 تا 8 )