خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 29
خطبات مسرور جلد 11 29 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2013ء خاندان کو اکٹھا کیا اور وصیت کی اور پھر کہا کرتے تھے کہ مجھ پر اور میری اولاد پر بڑا احسان کیا ہے جو ہم سے وصیت کروائی۔آغا یحیی صاحب جو سویڈن کے مبلغ ہیں وہ کہتے ہیں۔بیشمار خوبیوں کے مالک تھے، ان کے کردار اور گفتار سے معلوم ہوتا تھا کہ یقیناً یہ ایک صحابی کی اولاد ہیں۔تبلیغ کی تو جیسے دھن لگی ہوتی تھی، خلافت سے بڑا تعلق تھا۔اور میں نے بروشر تقسیم کرنے کی جب تحریک کی ہے تو ہر وقت بروشرز اپنے پاس رکھتے تھے تا کہ تقسیم کرتے رہیں۔اور وقت ضائع نہیں کرتے تھے، مشن ہاؤس میں لائبریری میں آتے تھے اور بیٹھ کے کتابیں پڑھتے تھے۔مربی صاحب کہتے ہیں کہ کئی دفعہ میں نے کہا کہ چائے پی لیں تو انہوں نے کہا کہ میں تو اب ریٹائرڈ آدمی ہوں، وقت گزار رہا ہوں، آپ کا وقت کیوں ضائع کروں۔آپ کا وقت قیمتی ہے، مبلغین کا وقت بہت قیمتی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے بچوں کو بھی ہمیشہ وفا کے ساتھ اپنے عہد بیعت کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔اور مرحوم کے درجات بلند فرمائے ، مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔دوسرا جنازہ مکرم ملک شفیق احمد صاحب آرکیٹیکٹ کا ہے جن کی 6 جنوری کو ورجینیا نیوجرسی میں وفات ہوئی۔یہ اللہ کے فضل سے ٹھیک ٹھاک تھے۔وہاں کسی کی شادی پر گئے ہوئے تھے تو شادی پر اپنے بیٹے کو کہا کہ کافی وقت ہے، پہلے نماز پڑھ لیتے ہیں۔وضو کر کے باہر آئے ہیں۔وہیں ان کو دل کا دورہ پڑا ہے۔ان کا بیٹا ابھی واش روم میں ہی تھا۔بہر حال ایک احمدی باہر بیٹھے تھے ، اُن کو کہا کہ میری طبیعت خراب ہو رہی ہے ، وہ جب اُٹھانے کے لئے بڑھے تو یہ نیچے گر گئے۔وہاں ایک ڈاکٹر بھی تھے۔ڈاکٹر نے آکران کو دیکھا ، وہ کارڈیالوجسٹ تھے، اُن کو خیال ہوا کہ ہارٹ اٹیک ہے۔بہر حال ایمبولینس بھی آ گئی لیکن جب ہسپتال پہنچے تو اس سے پہلے ہی ان کی وفات ہو چکی تھی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ - ان کا خاندان نوشہرہ لگے زئیاں، پسرور، سیالکوٹ سے تعلق رکھتا تھا، اور ان کے دادا ملک میر محمد صاحب نے 1924ء میں بیعت کی تھی۔اللہ کے فضل سے اس کے بعد سے یہ سارا احمدیت میں اچھا مخلص خاندان ہے۔انہوں نے 1968ء میں انجنیئر نگ کی۔وہاں سے انجنیئر نگ کی ڈگری لینے کے بعد منسٹری آف ڈیفنس میں بھی کام کیا۔پھر چار پانچ سال لیبیا میں ملازمت کی۔پھر لاہور میں ایل ڈی اے میں کام کرتے رہے۔اور وہاں سے ریٹائر ہونے کے بعد پھر یہ امریکہ چلے گئے۔لیکن اس عرصے میں بھی انہوں نے جماعتی طور پر بھی کافی خدمات کی ہیں۔جب خلافت رابعہ میں ادارہ تعمیرات کا قیام ہوا تو وہاں بھی آپ کو خدمت کی توفیق ملی۔دار الضیافت کی توسیع ، لجنہ ہال کی تعمیر مسجد مبارک کی توسیع ، دارالقضاء کی بلڈنگ اور اسی طرح بیوت الحمد سوسائٹی وغیرہ میں انہوں نے کافی کردار ادا کیا ہے۔مسجد بیت الفتوح کے ( نقشہ میں )