خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 336 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 336

خطبات مسرور جلد 11 336 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 7 جون 2013ء جائے گی، ایسی ( عظمت ) پیدا ہو جائے کہ بالکل دل کو اپنے قبضے میں لے لے تو پھر جو غلط افعال ہیں یا غلط خیالات ہیں، اُن میں پھر بہتری آنی شروع ہوتی ہے۔وہ ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔) فرمایا : ” پس نجات معرفت میں ہی ہے۔( یہ معرفت حاصل کرو اللہ تعالیٰ کی ) فرمایا ” معرفت ہی سے محبت بڑھتی ہے اس لیے سب سے اول معرفت کا ہونا ضروری ہے محبت کے زیادہ کرنے والی دو چیزیں ہیں۔حسن اور احسان۔جس شخص کو اللہ جل شانہ کا حسن اور احسان معلوم نہیں وہ کیا محبت کریگا؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمَّ الْخِيَاطِ۔(الاعراف: 41) یعنی کفار جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ گزر جائے“۔فرمایا کہ مفسرین اس کا مطلب ظاہری طور پر لیتے ہیں مگر میں یہی کہتا ہوں کہ نجات کے طلبگار کو خدا تعالیٰ کی راہ میں نفس کے شتر بے مہار کو مجاہدات سے ایسا دبلا کر دینا چاہئے کہ وہ سوئی کے نا کہ میں سے گذر جائے۔جب تک نفس دنیوی لذائذ و شہوانی حظوظ سے موٹا ہوا ہوا ہے تب تک یہ شریعت کی پاک راہ سے گذر کر بہشت میں داخل نہیں ہوسکتا۔دنیوی لذائذ پر موت وارد کرو اور خوف وخشیت الہی سے دبلے ہو جاؤ تب تم گذر سکو گے اور یہی گذرنا تمہیں جنت میں پہنچا کر نجات اخروی کا موجب ہوگا۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 314 تا 316 مطبوعہ ربوہ ایڈیشن 2003) اللہ تعالیٰ کرے کہ جماعت بحیثیت جماعت بھی اور ہر فرد جماعت بھی عاجزی اور انکساری کے اُس مقام پر پہنچے جہاں اُن کا صبر بھی حقیقی صبر بن جائے ، اُن کی عبادتیں بھی حقیقی عبادتیں بن جائیں جو خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوں۔ان صبر اور دعاؤں کے پھل اگلے جہان میں نہیں بلکہ اس دنیا میں بھی ایسے لگیں کہ دنیا کو نظر آ جائے کہ یہ جماعت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیدا کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے حاضر ہونے والی، اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے والی اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر نہایت عاجزی سے عمل کر نیوالی ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے والی ہے۔صبر اور دعا کے ساتھ دنیا میں ایک انقلاب پیدا کرنے والی ہے۔مشکلات اور مصائب کے وقت دنیا والوں کی طرف جھکنے والی نہیں، بلکہ اُس خدا کی طرف جھکنے والی ہے جو سب طاقتوں کا مالک ہے، جو دشمن کو اُس کے تمام تر ساز وسامان اور ظاہری قوت کے باوجود زیر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔جب یہ نظارے دنیا کو ہم میں نظر آئیں گے، تو دنیا یہ کہنے پر مجبور ہو گی کہ حقیقی مؤمن یہی ہیں۔خدا تعالیٰ سے تعلق والے اگر دیکھنے ہیں