خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 335
خطبات مسرور جلد 11 335 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 7 جون 2013ء تک انسان اپنے آپ کو سب سے چھوٹا نہ سمجھے، چھٹکارا نہیں پاسکتا۔کبیر نے سچ کہا ہے بھلا ہوا ہم بیچ بھیٹے ہر کو کیا سلام جے ہوتے گھر اونچ کے ملتا کہاں بھگوان یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم چھوٹے گھر میں پیدا ہوئے۔اگر عالی خاندان میں پیدا ہوتے تو خدا نہ ملتا۔جب لوگ اپنی اعلیٰ ذات پر فخر کرتے تو کبیرا اپنی ذات بافندہ پر نظر کر کے شکر کرتا۔“ فرمایا: ” پس انسان کو چاہئے کہ ہر دم اپنے آپ کو دیکھے کہ میں کیسا بیچ ہوں۔میری کیا ہستی ہے ہر ایک انسان خواہ کتنا ہی عالی نسب ہو مگر جب وہ اپنے آپ کو دیکھے گا۔بہر نج وہ کسی نہ کسی پہلو میں ( یعنی ہر طریق سے ) میں بشرطیکہ آنکھیں رکھتا ہو۔تمام کائنات سے اپنے آپ کو ضرور بالضرور نا قابل و پیچ جان لیگا۔انسان جب تک ایک غریب و ٹیکس بڑھیا کے ساتھ وہ اخلاق نہ برتے جوایک اعلیٰ نسب عالی جاہ انسان کے ساتھ برتتا ہے یا برتنے چاہیں اور ہر ایک طرح کے غرور ور عونت و کبر سے اپنے آپ کو نہ بچاوے وہ ہرگز ہرگز خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوسکتا۔جس قدر نیک اخلاق ہیں تھوڑی سی کمی بیشی سے وہ بداخلاقی میں بدل جاتے ہیں۔اللہ جل شانہ نے جو دروازہ اپنی مخلوق کی بھلائی کے لیے کھولا ہے وہ ایک ہی ہے یعنی دعا۔جب کوئی شخص بکا وزاری سے اس دروازہ میں داخل ہوتا ہے، تو وہ مولائے کریم اُس کو پاکیزگی و طہارت کی چادر پہنا دیتا ہے اور اپنی عظمت کا غلبہ اُس پر اس قدر کر دیتا ہے کہ بیجا کا موں اور ناکارہ حرکتوں سے وہ کوسوں بھاگ جاتا ہے۔کیا سبب ہے کہ انسان باوجود خدا کو ماننے کے بھی گناہ سے پر ہیز نہیں کرتا؟ در حقیقت اس میں دہریت کی ایک رگ ہے اور اس کو پورا پورا یقین اور ایمان اللہ تعالیٰ پر نہیں ہوتا۔ورنہ اگر وہ جانتا کہ کوئی خدا ہے جو حساب کتاب لینے والا ہے اور ایک آن میں اس کو تباہ کر سکتا ہے تو وہ کیسے بدی کر سکتا ہے اس لیے حدیث شریف میں وارد ہے کہ کوئی چور چوری نہیں کرتا در آنحالیکہ وہ مومن ہے اور کوئی زانی زنا نہیں کرتا در آنحالیکہ وہ مومن ہے۔“ ( یعنی چور بھی اور زانی بھی بیشک ایک وقت میں ایمان کی حالت میں ہوتے ہیں لیکن ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ وہ غلط کاموں کی طرف رغبت کر لیتے ہیں ) فرمایا ”بد کرداریوں سے نجات اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جبکہ یہ بصیرت اور معرفت پیدا ہو کہ خدا تعالیٰ کا غضب ایک ہلاک کرنے والی بجلی کی طرح گرتا اور بھسم کر نے والی آگ کی طرح تباہ کر دیتا ہے تب عظمت الہی دل پر ایسی مستولی ہو جاتی ہے کہ سب افعال بداندر ہی اندر گداز ہو جاتے ہیں۔“ (یعنی یہ معرفت اور بصیرت پیدا ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا غضب ہلاک کرنے والا ہے اور جب یہ معرفت پیدا ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت دل میں پیدا ہو