خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 334 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 334

خطبات مسرور جلد 11 334 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 7 جون 2013ء بھی ہوں گے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کوصرف اپنے فائدے کے لئے نہیں، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و محبت کی وجہ سے اپنانے والے ہوں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی آگ کو اپنے سینے میں لگاتے آپ کے ہر عمل کی، پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں گے۔اور یہی حقیقی حالت ہے جو ایک مؤمن کو مؤمن بناتی ہے۔جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوے پر چلنے کی یہی حقیقی حالت ہے اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا کہ جو اُس پر چلے گا تو محببكُمُ اللهُ ( آل عمران : 32) کہ اس يُحببكُمُ الله کا حقیقی مصداق بناتی ہے۔یہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں بھی بڑھاتی ہے اور یہی محبت ہے جو پھر أَنَّهُمْ إِلَيْهِ رُجِعُونَ (البقرة: 47) کہ وہ اُس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، کا حقیقی ادراک بھی پیدا کرتی ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے والا انسان پھر ایک انسان بن سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے جب ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ ہم کچھ چیز نہیں ہیں اور تو ہی ہے جو ہماری دعاؤں کو سن لے اور ہم میں عاجزی اور انکساری پیدا کر ہمیں اس معیار پر لے کر آ ، تو پھر صبر اور صلوٰۃ پر قائم رہنے کی بھی ہم نے کوشش کرنی ہے۔پھر ہم اللہ تعالیٰ سے یہ بھی عرض کرتے ہیں کہ اگر کہیں اس میں، ہماری دعاؤں میں، ہماری کوششوں میں یا ہماری ظاہری عاجزی میں ہمارے نفس کی ملونی ہے تو ہمیں معاف کر دے۔کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ ہماری یہ عاجزی کا احساس ہمارے نفس کا دھوکہ ہو۔پس ہمیں اُس خاشعین میں شمار کر جوحقیقی خاشعین ہیں۔ہمیں اُن عاجزی اور انکسار دکھانے والوں میں شمار کر جن کے بارے میں تیرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس عاجزی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں ساتویں آسمان تک اُٹھا لیتا ہے۔ہمیں اس طرز پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما جس پر تیرے محبوب رسول کے عاشق صادق ہمیں چلانا چاہتے ہیں، اُن توقعات پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرما جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت سے کی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔ایک جگہ آپ اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ”ہماری جماعت کو اس پر توجہ کرنی چاہئے کہ ذرا سا گناہ خواہ کیسا ہی صغیرہ ہو جب گردن پر سوار ہو گیا تو رفتہ رفتہ انسان کو کبیرہ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے۔طرح طرح کے عیوب مخفی رنگ میں انسان کے اندر ہی اندر ایسے رچ جاتے ہیں کہ ان سے نجات مشکل ہو جاتی ہے۔انسان جو ایک عاجز مخلوق ہے اپنے تئیں شامت اعمال سے بڑا سمجھنے لگ جاتا ہے۔کبر اور رعونت اس میں آجاتی ہے اللہ کی راہ میں جب