خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 28

خطبات مسرور جلد 11 28 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2013ء 23 دسمبر کو 82 سال کی عمر میں وفات ہوگئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔مکرم عبدالمجید ڈوگر صاحب حضرت ماسٹر چراغ محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آف کھارا کے بیٹے تھے اور حضرت امیر بخش صاحب کے پوتے تھے۔دونوں ، ان کے والد بھی اور ان کے دادا بھی صحابی تھے۔ان کے بھائیوں میں، بیٹوں میں فی الحال لگتا ہے کوئی اختلاف ہے، لیکن بہر حال جہاں تک میری یادداشت ہے، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میرے والد صاحب نے مجھے بتایا تھا اور اب اس پر تصدیق خود ان کے بیٹے بھی کر رہے ہیں کہ ماسٹر چراغ محمد صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو بھی پڑھایا ہوا ہے۔میرے والد اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث تقریباً ہم عمر ہی تھے، ڈیڑھ سال کا فرق تھا۔انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ بھی ان سے پڑھے ہوئے ہیں۔تو اسی طرح حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کو بھی بعض لوگ کہتے ہیں پڑھایا ہے۔بہر حال یہ قادیان کے قریب ہی کھارا تھا، اُس علاقے کے تھے ، اُن کے یہ بیٹے ہیں، عبدالمجید ڈوگر صاحب۔ڈوگر صاحب بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔خلافت سے بڑا وفا کا اور عشق کا تعلق تھا۔ہمیشہ خلافت کا ذکر ہوتا تو بتانے والے بتاتے ہیں کہ آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔مربیانِ کرام اور واقفین زندگی کے ساتھ بھی پیار اور بڑے احترام کے ساتھ پیش آتے تھے۔بلکہ میرے سے جو ان کا تعلق تھا میں نے بھی دیکھا ہے کہ ان کی آنکھوں میں سے ہر وقت ایک محبت اور پیار چھلک رہا ہوتا تھا۔بہت سادہ اور منکسر المزاج، مالی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے۔نمازوں کے پابند، تہجد گزار، دعا گو، غریب پرور، نیک با اخلاق و با وفا انسان تھے۔تبلیغ کا بھی بڑا شوق تھا اور تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے اور یہی ایک تقویٰ پر چلنے والے کی نشانی ہے۔تبلیغ کے ضمن میں امیر صاحب بیان کرتے ہیں اور ان کے مربی صاحب نے بھی لکھا کہ سویڈن کے بادشاہ اور امریکہ کے صدر اوباما اور پوپ کو بھی انہوں نے خطوط لکھے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ”اسلامی اصول کی فلاسفی بھی بھجوائی تھی۔بیماری کی وجہ سے جب ہسپتال داخل تھے تو اُس موقع پر سب ڈاکٹروں کو بھی اسلامی اصول کی فلاسفی، پیش کرتے تھے۔اور جب کسی کولٹریچر دیتے تو اس سے وعدہ لیتے کہ ضرور پڑھیں گے۔2005ء میں جب میں نے وصیت کی تحریک کی ہے اور پھر جب سویڈن گیا ہوں تو اُس وقت تک انہوں نے وصیت نہیں کی ہوئی تھی۔میرے کہنے پر کہ وصیت کریں اور سب ڈوگر ماشاء اللہ ان کے بھائی بھی اور اولادیں بھی صاحب حیثیت ہیں، تو سارے خاندان کو وصیت کرنی چاہئے۔بہر حال مجھے تو یاد نہیں لیکن ان کے بھائیوں بیٹوں نے یاد کرایا کہ آپ نے یہ کہا تھا کہ ڈوگروں کو میں نہیں چھوڑوں گا، ان سب کو وصیت کروانی ہے۔تو بہر حال اس پر انہوں نے سارے