خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 333
خطبات مسرور جلد 11 333 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 7 جون 2013ء نمازیں پڑھنے والوں اور دعائیں کرنے والوں کی پرواہ کرتا ہے جو عاجزی میں بھی بڑھے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا کئے ہوئے ہیں جو کبھی نہ ٹوٹنے والا ہے۔اس زمانے میں تو خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ : تیری عاجزانہ را ہیں اُسے پسند آئیں ( تذکرہ صفحہ 595 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ ) یہ عاجزانہ راہیں تھیں، جنہوں نے ترقی کی نئی راہیں کھول دیں۔پس ہم جو آپ علیہ السلام کے ماننے والے ہیں ، ہم نے اگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنا ہے، ہم نے اگر خدا تعالیٰ کی مدد سے حصہ لینا ہے، ہم نے اگر اپنے صبر کے پھل کھانے ہیں ، ہم نے اگر اپنی دعاؤں کی مقبولیت کے نظارے دیکھنے ہیں تو پھر عاجزی دکھاتے ہوئے اور مستقل مزاجی سے خدا تعالیٰ کے حضور جھکے رہنا ضروری ہے۔یہی چیز ہے جو ہمیں شیطانی اور طاغوتی طاقتوں سے بھی بچا کے رکھے گی اور یہی چیز ہے جو ہمارے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرے گی ، اور یہی چیز ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والا بنائے گی۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ یہ عاجزی کوئی آسان کام ہے۔بہت سی انائیں، بہت سی ضدیں، بہت سی سستیاں ، بہت سی دنیا کی لالچ ، بہت سی دنیا کی دلچسپیاں ایسی ہیں جو یہ مقام حاصل کرنے نہیں دیتیں۔فرمایا إنها لكَبيرة۔یہ آسان کام نہیں ہے، یہ بہت بوجھل چیز ہے۔وہ تمام باتیں جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں ہیں جو صبر اور صلوٰۃ کو اُس کی صحیح روح کے ساتھ اور عاجزی دکھاتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کا حق ادا کرتے ہوئے بجالانے سے روکتی ہیں۔ہمیں یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ اُس کا بندہ اُس صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرے اور ایسی عبادت کے معیار بنائے جس میں ایک لحظہ کے لئے بھی غیر کا خیال نہ آئے۔دنیاوی کاموں کے دوران بھی دل خدا تعالیٰ کے آگے جھکا ر ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرما دیا کہ ایسی حالت پید کرنا آسان نہیں ہے، یہ بہت بوجھل چیز ہے۔اور اس بوجھ چیز کو اٹھانا بغیر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ممکن نہیں ہے۔اس لئے اس کی مدد چاہو، اُس کے فضل کو حاصل کرنے کے لئے اُس کے آگے جھکو، کوشش کرو لیکن یہ مدداُس وقت ملے گی جب عاجزی اور انکساری بھی ہوگی۔جب اس یقین پر قائم ہوں کہ انهُم مُّلْقُوا رَبَّهِمْ (البقرة: 47) یعنی کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں۔جب یہ یقین ہوگا۔تو پھر ہم صبر اور دعا کا حق ادا کرنے والے بھی ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والے بھی ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو اپنے سامنے رکھنے والے