خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 330 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 330

خطبات مسرور جلد 11 330 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 7 جون 2013ء ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔آپ کی عبادتیں ہیں تو اُس کے بھی وہ اعلیٰ ترین معیار ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اعلان کر دے کہ میرا اپنا کچھ نہیں ، میری عبادتیں بھی صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے لئے ہیں۔میں اپنی ذات کے لئے کچھ حاصل نہیں کرتا ؛ نہ کرنا چاہتا ہوں، بلکہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا میرے پیش نظر ہے۔میری زندگی کا مقصد خدا تعالیٰ کی ذات کے گرد گھومتا ہے۔قُلْ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعلمين (الانعام : 103) کا اعلان ایک ایسا اعلان ہے جس کے اعلیٰ معیاروں تک آپ کے علاوہ کوئی اور پہنچ نہیں سکتا۔اور پھر صبر کی بات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کہ وَمَا يُلَقَهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَهَا إِلَّا ذُو حَةٍ عَظِيمٍ ( حم السجدہ:36) کہ اور باوجود ظلموں کے سہنے کے یہ مقام انہیں عطا کیا جاتا ہے جو بڑا صبر کرنے والے ہیں یا پھر اُن کو جنہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی نیکی کا حصہ ملا ہو۔جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پڑھتے ہیں تو گھر یلو مشکلات اور تکالیف میں بھی اپنی ذات پر جسمانی طور پر آنے والی مشکلات اور تکلیفوں میں بھی ، اپنی جماعت پر آنے والی مشکلات اور تکلیفوں میں بھی صبر کی اعلیٰ ترین مثال اور صبر کے اعلیٰ ترین معیار ہمیں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں نظر آتے ہیں۔ذاتی طور پر دیکھیں طائف میں کس اعلیٰ صبر کا مظاہرہ کیا۔اور یہ صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ نے ایک شہر کو تباہ ہونے سے بچا لیا۔باوجود کہ اللہ تعالیٰ کی، نے آپ کو اختیار دیا تھا لیکن آپ کے صبر کی انتہا تھی کہ باوجود زخمی ہونے کے، باوجودشہر والوں کی غنڈہ گردی کے آپ نے کہا نہیں ، اس قوم کو تباہ نہیں کرنا۔(شرح العلامه الزرقانی صفحه 52-53 باب خروجه الى الطائف مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996) پھر اگر آپ کے ماننے والوں نے قوم کے ظلموں سے تنگ آ کر آپ کو ایک خاص قوم کے لئے بددعا کے لئے درخواست کی تو آپ نے اُن کی اس درخواست کو یہ نہیں کہا کہ اب میں بددعا کرتا ہوں ، بلکہ اُس قوم کی ہدایت کے لئے دعا کی۔(ماخوذ از بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة في الاسلام حدیث : 3612) اور یوں اپنے ماننے والوں کو بھی اپنے نمونے سے، اپنے عمل سے ، اپنی دعا سے صبر کی تلقین فرما دی کہ صحیح بدلہ بددعاؤں سے نہیں ہے ہی بدلہ ہدایت کی دعاؤں سے ہے۔صحیح بدلہ صبر کے اعلیٰ نمونے دکھانے سے ہے۔پھر عاجزی اور انکساری کی مثال ہے تو ہر موقع پر، ہر جگہ آپ کی ذات میں یہ ہمیں نظر آتی ہے۔اس کی ایک مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباس میں میں نے دی ہے۔