خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 319
خطبات مسرور جلد 11 319 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 مئی 2013 ء تو یہ جو اسلام کے خلاف تھا، اب وہ یہ بیان دے رہا ہے کہ یہ جو باتیں کر گئے ہیں، ہمارے لوگ اب سالوں تک اس فصل سے فائدہ اُٹھا ئیں گے، اس کی فصل کاٹیں گے۔اس طرح اُن کے اسلام کے بارے میں جو شدت پسندی کے خیالات تھے وہ بدلے۔پھر کیلیفورنیا سٹیٹ کے سابق گورنر کا بھی اظہار ہے۔یہ میرے ساتھ بیٹھے باتیں کرتے رہے اور ایم ٹی اے کے بارے میں بھی ان کو میں نے بتایا کہ جماعت کا کیا مقصد ہے، کس طرح تبلیغ کرتی ہے،کس طرح ایم ٹی اے چلتا ہے۔تو ان کو بڑی دلچسپی تھی۔پھر انہوں نے فریکوینسی بھی لی کہ میں ضرور اب یہ دیکھوں گا،سنوں گا۔Los Angeles میں دو بڑے اخباروں " Los Angeles Times “ اور ” Wall 66 66 وو Street Journal“ نے میرے انٹر ویو بھی لئے تھے۔اور وہاں بھی اسلام کے حوالے سے ہی زیادہ باتیں ہوتی رہیں۔پھر پہلا سوال اُس نے مجھے یہ کیا تھا کہ آپ اسلام کے پرامن پیغام کو کیسے پھیلا سکتے ہیں جبکہ بعض مسلمانوں کے تشدد اور دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سے اسلام کا بہت بُرا تاثر پیدا ہوا ہے۔آپ اس تاثر کو دور کرنے کے لئے کیا کر رہے ہیں؟ اس پر میں نے اُن کو جواب دیا تھا کہ حقیقی اسلام تو امن کا پیغام ہے۔اسلام کے معنی امن اور سلامتی ہیں۔اور یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آخری زمانے میں مسیح موعود اور امام مہدی نے آنا ہے اور وہ آ گیا جس کو ہم مانتے ہیں۔اور اس نے صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ ساری دنیا کو اسلام کی سچی اور صحیح تعلیمات سے منور کرنا ہے۔اسلام کی امن اور آشتی کی تعلیم سے دنیا کو آگاہ کرنا ہے۔چنانچہ اس زمانے میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام تشریف لائے اور آپ نے اُن پیشگوئیوں کے مطابق سچی تعلیم کو دنیا کو بتایا اور ہم آگے بتا رہے ہیں۔پھر میں نے اُن کو یہ بھی بتایا کہ جنگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسلام میں جنگیں کیوں لڑی گئیں؟ یہ میں نے تقریر میں بھی ذکر کیا تھا لیکن یہ انٹرویو اُس سے پہلے تھا کہ مسلمانوں نے کبھی پہلے حملہ نہیں کیا بلکہ مسلمانوں پر مظالم کئے گئے تو تبھی حملے ہوئے اور وہ حملے جواب میں تھے۔اور اب کیونکہ مسلمانوں کے خلاف ایسی کوئی خاص مذہبی جنگ نہیں لڑی جارہی اس لئے اس وقت جب تک کہ ایسا موقع نہ ہو اس قسم کا تلوار کا جہاد جو ہے وہ منع ہے۔اور یہ مسلمان جہادی تنظیمیں اس حوالے سے جو بھی کام کر رہی ہیں وہ غلط کر وہ رہی ہیں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفائے راشدین سے کبھی بھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ انہوں نے ظلم کیا ہو۔