خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 311 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 311

خطبات مسرور جلد 11 311 22 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 مئی 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفہ السیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 31 مئی 2013 ء بمطابق 31 ہجرت 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَيّت ( الضحى : 12) اور تو اپنے رب کی نعمت کا اظہار کرتارہ۔اللہ تعالی کی نعمتیں دنیا وی بھی ہیں اور دینی بھی اور روحانی بھی۔دنیاوی نعمتیں تو ہر ایک کو بلاتخصیص عطا ہوتی ہیں۔جو لوگ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے ہیں، خدا تعالیٰ پر ایمان لانے والے ہیں، اللہ تعالیٰ کو ہر نعمت کا منبع سمجھنے والے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی دنیاوی نعمتوں کا بھی شکر ادا کرتے ہیں۔اُس کا اظہار جہاں اپنی ذات پر کرتے ہیں وہاں دنیا کو بھی بتاتے ہیں کہ یہ نعمت محض اور محض خدا تعالیٰ کے فضل سے ملی ہے۔لیکن ان دنیاوی نعمتوں کے علاوہ بھی جیسا کہ میں نے کہا، دینی اور روحانی نعمتیں ہیں۔اور ایک مسلمان اور حقیقی مسلمان اور اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے غلام جو یقیناً ہم احمدی ہیں، اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو بھی حاصل کرنے والے بنے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے اس فضل اور انعام کو بیان کرنا اور اس کا اظہار ایک احمدی پر فرض ہے۔جس کا ایک طریق تو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزارنا ہے۔اور دوسرے دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹنا ہے اور دنیا کو بتانا ہے اور تبلیغ کرنا ہے کہ یہ نعمت ، یہ نور جو ہمیں ملا ہے ، آؤ اور اس سے حصہ لے کر اللہ تعالیٰ کے فضل کے یا فضلوں کے وارث بنو کہ یہیں نورِ خدا ہے۔یہیں تمہاری بقا ہے۔یہیں دنیا کی بقا ہے۔یہیں تمہیں اور دنیا کو دنیا و عاقبت سنوار نے کے سامان مہیا ہیں۔اور پھر اس پیغام کو پہنچانے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے جو دروازے کھلتے ہیں، ہماری تھوڑی سی کوششوں کو جو اللہ تعالیٰ بے انتہا نوازتا ہے، ہم اللہ تعالیٰ کے دین کا پیغام پہنچانے کا جو ذریعہ بنتے ہیں، اس پر ہماری تو قعات سے بہت زیادہ اللہ تعالیٰ کے کئی گنا بڑھ کر جو فضل ہوتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ