خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 306
خطبات مسرور جلد 11 306 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 مئی 2013 ء پہنا دیئے تھے، وہ اپنے برقعے جو لجنہ کی طرف سے ملے تھے وہاں مسجد میں چھوڑ کر چلی گئیں اور صفائی کرنے والے اُن کو اکٹھا کر رہے ہیں۔بیشک اسلام نے حیا کا حکم عورت اور مرد دونوں کو دیا ہے اور یہ دونوں کی بہتری کے لئے دیا گیا ہے۔لیکن عورت کو خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اپنا خیال رکھو کیونکہ مردوں کی نظریں بے لگام ہوتی ہیں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 104 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) اس پر کسی کا کوئی خرچ نہیں ہے، کوئی محنت نہیں ہے لیکن چونکہ دنیا داری غالب ہے اس لئے اس طرف توجہ نہیں دیتے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم عمل کرو گے تو فلاح پانے والے ہو گے۔اگر نہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رسول کا کام پیغام پہنچا دینا ہے، خدا تعالیٰ کے احکامات کو کھول کر بیان کر دینا ہے۔اگر عمل کرو گے تو ہدایت پانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔بیعت کا حق ادا کرنے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔اگر نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔صرف اس بات پر خوش نہ ہو جاؤ کہ ہم احمدی ہو گئے یا احمدی گھر میں پیدا ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی فرماتے ہیں کہ ” میری بیعت کچھ فائدہ نہیں دے گی اگر اُس کے ساتھ عمل صالح نہیں۔“ (ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 184 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) پھر نماز ایک بنیادی حکم ہے جو خدا تعالیٰ نے انسان کی زندگی کا مقصد بتایا ہے۔لیکن اس میں بھی ہمارے اچھے بھلے کارکن بھی سستی دکھا جاتے ہیں۔بعض عہدیدار ہیں باہر کام کر رہے ہیں ، جماعت میں بڑے ایکٹو (Active) ہیں، یہاں آتے ہیں تو شاید بڑے خشوع و خضوع سے نماز بھی مسجد میں پڑھتے ہوں گے لیکن اُن کی بیویاں بتا دیتی ہیں کہ یہ جب گھر میں ہوں تو گھروں میں نماز نہیں پڑھتے۔پس جب خدا تعالیٰ کے ایک انتہائی اہم حکم پر عمل نہیں تو پھر یہ دعویٰ بھی فضول ہے کہ ہم یہ کر دیں گے اور وہ کر دیں گے۔پہلے اپنی حالتیں تو سنوارو۔اور جب ایسی حالت ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کے ہر حکم پر عمل ہو، اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے ایک خاص کوشش ہو تو تبھی ایک احمدی، ایک مؤمن سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کا حق ادا کرنے والا کہلا سکتا ہے۔اور جب یہ ہوگا ، جب ایمان کے بعد اُس میں ترقی کرتے چلے جانے کی کوشش ہو گی ، جب اعمال صالحہ بجالانے کی طرف توجہ ہوگی تو پھر ایسے لوگ خلافت کے انعام سے فیض پاتے رہیں گے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ اُن لوگوں سے کیا ہے یا خلافت کے مقام سے وہ لوگ فائدہ اُٹھا ئیں گے، وہ لوگ تمکنت حاصل کریں گے، اُن کے خوف کو امن میں خدا تعالیٰ بدلے گا جو ایمان لانے والے اور