خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 305
خطبات مسرور جلد 11 305 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 مئی 2013 ء تقوی اختیار کر کے کامیابیاں حاصل کرنے والے ہیں، نظام جماعت اور نظام خلافت کی مکمل اطاعت کر کے اللہ تعالیٰ کے ہاں سرخرو ہونے والے ہیں، وہاں میں اُن تمام عہدیداروں اور جن کے سپر دبھی فیصلہ ( کرنے کا کام ہے، اُن میں قاضی صاحبان بھی شامل ہیں، اُن کو بھی کہتا ہوں کہ آپ بھی خدا تعالیٰ اور اُس کے رسول کے حکم کے موافق کام کریں۔ایسی بات نہ کریں جو آپ کو انصاف سے دور لے جانے والی ہو ، جو تقویٰ سے ہٹی ہوئی ہو۔خلیفہ وقت کی نمائندگی کا صحیح حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔اگر نہیں تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ ضرور پکڑے جائیں گے اور جو دنیاوی کا رروائی ہوگی وہ تو ہوگی، خدا تعالیٰ کی سزا کے بھی مورد بن سکتے ہیں۔پس ہر عہدیدار کے لئے یہ بہت خوف کا مقام ہے۔عہد یدار بننا صرف عہد یدار بننا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان کا دعوی ہے، اُس کے رسول پر ایمان کا دعوی ہے، مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کا دعوی ہے، دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا دعوی ہے تو پھر اللہ اور اُس کے رسول کے ہر حکم پر عمل کرو۔زمانے کے امام نے جو تمہیں کہا ہے اُس پر عمل کرو۔خلیفہ وقت کی طرف سے جو ہدایات دی جاتی ہیں اُن پر عمل کرو، ورنہ تمہارا اسمیں کھانا اور بلند بانگ دعوے کرنا کہ ہم یہ کر دیں گے اور وہ کر دیں گے بے معنی ہے۔اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کا حال جانتا ہے، اُسے پتہ ہے، اُس کے علم میں ہے کہ تم کہہ کیا رہے ہو اور کر کیا رہے ہو۔ہم ہر اجتماع پر یہ عہد تو کرتے ہیں کہ خلیفہ وقت جو بھی معروف فیصلہ فرما ئیں گے اُس کی پابندی کرنی ضروری سمجھیں گے لیکن بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کی بھی پابندی نہیں کرتے بلکہ قرآن کریم کے جو احکامات ہیں اُن کی بھی تعمیل کرنے کی ، پابندی کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔جو کم از کم معیار ہیں اُن کو بھی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔اب میں ایک مثال دیتا ہوں کہ یہاں آپ کا ویسٹ کوسٹ (West Coast) کا یہ جلسہ ہوا ہے اور بہت ساری باتیں ہوئی ہیں، شاید اور باتیں بھی سامنے آجائیں لیکن بہر حال اس وقت عورتوں کی مثال میرے سامنے ہے کہ میں نے اُن کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ہماری ہر عورت کا جو اس مغربی ملک میں رہتی ہے حیادار لباس ہونا چاہئے اور حجاب ہونا چاہئے ، اپنے آپ کو ڈھانکنا چاہئے۔یہ قرآنِ کریم کا حکم ہے۔یہ کوئی معمولی حکم نہیں ہے۔قرآنِ کریم نے خاص طور پر فرمایا ہے کہ اس پر عمل کریں۔لیکن تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ اس طرف کوئی توجہ نہیں تھی۔بلکہ بعض عورتیں جن کو شاید لجنہ نے زبردستی نقاب