خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 304 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 304

خطبات مسرور جلد 11 304 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 مئی 2013 ء اپنے دنیاوی معاملات اور جھگڑے، باوجود جماعت کے نظام کے جہاں جماعتی نظام میں یہ کوشش ہوتی ہے کہ شریعت اور قانون کو سامنے رکھ کر سلجھائے جائیں ، نظام جماعت کے سامنے (لانے سے) انکار کرتے ہیں اور ملکی عدالت میں لے جاتے ہیں۔خاص طور پر جو عائلی اور گھر یلو میاں بیوی کے مسائل ہیں۔اسی طرح بعض اور دوسرے معاملات بھی ہیں اور ایسے لوگوں کی بدنیتی کا اُس وقت پتہ چلتا ہے جب وہ پہلے انکار کرتے ہیں کہ جماعت میں معاملہ لایا جائے۔اور جب عدالت میں اُن کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے یا وہ کچھ نہ ملے جو وہ چاہتے ہیں تو پھر جماعت کے پاس آ جاتے ہیں۔یہی باتیں ہیں جو کسی کی کمزوری ایمان کا اظہار کر رہی ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن وہی ہیں جو اپنے معاملات خدا اور اُس کے رسول کے فیصلوں کے مطابق طے کرتے ہیں اور نظام جماعت کوشش بھی کرتا ہے اور اُس کو چاہئے بھی کہ اُن کے فیصلے خدا اور اُس کے رسول کے فیصلوں کے مطابق ہوں۔یہاں میں نظام جماعت کے اُس حصہ کو بھی تنبیہ کرنا چاہتا ہوں جو بعض اوقات گہرائی میں جا کر قرآن اور سنت کے مطابق فیصلہ نہیں کر رہے ہوتے۔وہ بھی گنہگار ہوتے ہیں اور نظامِ جماعت اور خلافت سے کسی کو دور کرنے کی وجہ بھی بن رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے خلافت کا ایک کام انصاف کے ساتھ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا بھی رکھا ہے۔آجکل جماعت میں اتنی وسعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے پیدا ہو چکی ہے، جماعت اتنی وسعت اختیار کر چکی ہے کہ خلیفہ وقت کا ہر جگہ پہنچنا اور ہر معاملے کو براہِ راست ہاتھ میں لینا ممکن نہیں ہے۔اور جوں جوں جماعت کی انشاء اللہ ترقی ہوتی جائے گی اس میں مزید مشکل پیدا ہوتی چلی جائے گی۔تو جو کارکن اور عہدیدار مقرر کئے گئے ہیں۔اگر وہ خدا تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے اور تقویٰ سے کام لیتے ہوئے فیصلہ نہیں کریں گے ، اپنے کام سر انجام نہیں دیں گے تو وہ خلیفہ وقت کو بھی بدنام کر رہے ہوں گے۔اور خدا تعالیٰ کے آگے خود بھی گنہگار بن رہے ہوں گے اور خلیفہ وقت کو بھی گنہ گار بنا رہے ہوں گے۔پس خاص طور پر قاضی صاحبان اور ان عہدیداران اور امراء کو جن کے سپر دفیصلوں کی ذمہ داری بھی ہے، اُن کو انصاف پر قائم رہتے ہوئے خلافت کی مضبوطی کا باعث بنے کی بھی کوشش کرنی چاہئے اور مضبوطی کا باعث بنیں، ورنہ وہی لوگ ہیں جو بظاہر عہد یدار ہیں اور خلافت کے نظام کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پس جہاں اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کو کامیاب فرمایا ہے جو خالصہ اللہ تعالیٰ کے ہو کر اُس کا